ڈاکٹر فاروق عبداللہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد میں ہیومینیٹیز ڈیپارٹمنٹ میں لیکچرر کے عہدے پر فائز ہیں،2017ء اور 2018ء میں استنبول ترکی میں انٹرنیشنل کانفرنسز میں شرکت کر کے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئےتحقیقی مقالہ جات پیش کر چکے ہیں۔2018ء ہی میں یونیورسٹی آف ڈھاکہ میں بھی عالمی کانفرنس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے تحقیقی مقالہ پیش کر چکے ہیں۔آپ ہائر ایجوکیشن کمیشن کےمنظور شدہ تحقیقی مجلہ جات میں 6 تحقیقی مقالہ جات شائع کر چکے ہیں۔ماضی میں روزنامہ اوصاف میں بطور سب ایڈیٹر کام کیا۔
Sunday, August 15, 2010
پاکستانی میڈیا پر نیا امریکی وار
کیا 18کروڑ پاکستانی مل کر ایک ارب 68کروڑ روپے جمع کرسکتے ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے کیونکہ ہم اپنی ذات سے آگے سوچنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ ایک ارب 68 کروڑ روپے کا ہوگا کیا؟ امریکا کے کھلے اور چھپے ناپاک مکروہ عزائم پورے کرنے میں معاون اس کا ادارہ یو ایس ایڈ جو پاکستان میں 1955ءسے سرگرم ہے، اس نے پاکستانی اخبارات میں ایک اشتہار شائع کیا ہے۔ اس اشتہار کے مطابق یو ایس ایڈ نے ایسے تمام پاکستانی اور امریکی اداروں سے منصوبے اور تجاویز طلب کیے ہیں جو بچوں کے پروگرام بناسکتے ہیں اور یو ایس ایڈ کو پاکستانی بچوں کے لئے ایک ٹیلی ویژن چینل قائم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے یو ایس ایڈ ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے لے کر 2کروڑ ڈالر تک کا سرمایہ فراہم کرے گا۔ یعنی تقریباً ایک ارب 68کروڑ پاکستانی روپے۔
عقل حیران ہے کہ یہاں بڑے بڑے اعلیٰ ذہن اور وژن رکھنے والے لوگ پورے 18کروڑ عوام کی رہنمائی کیلئے ایک نیوز چینل قائم کرنے کو تیار نہیں۔ اس کے لئے 5سے 10کروڑ روپے نکالنے کیلئے تیار نہیں۔ دوسری طرف امریکی حکومت ببانگِ دہل صرف پاکستانی بچوں کیلئے ایک ارب 68کروڑ روپے سے ٹی وی چینل قائم کررہی ہے۔
جاننے والے جانتے ہیں کہ پینٹاگون کے پاس اربوں ڈالر کا بجٹ صرف اور صرف اس لیے ہے کہ اسلامی ممالک میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے مسلمان عوام کا ذہنی غسل کیا جائے اور رائے عامہ کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال دیا جائے۔ آپ کو کیا دکھانا ہے، کیسے دکھاناہے، کیاسوچنے پر مجبورکرناہے، کس طرح کی رائے قائم کراناہے اور کس طرح کا کردار اداکروانا ہے یہ وہ تمام مقاصد ہیں جو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی مددسے حاصل کئے جارہے ہیں۔
امریکی ٹکڑوں یامشروبات پر پلنے والے نام نہاد کالم نویس اور دانشور صبح تا شام پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے صرف اسلام اور دہشت گردی کا تعلق ثابت کرتے نظر آتے ہیں۔
ان کوتمام مسائل کی جڑ اسلام اور لوگوں کا اسلام سے تعلق نظر آتاہے۔ طالبان کے نام پر دہشت گردی کے ہرطرح کے واقعات رونماہورہے ہیں اور ہر واقعے کے بعد لوگوں کے لاشعور میں متواتر ٹی وی مذاکروں کے ذریعے صرف ایک ہی بات بٹھائی جاتی ہے کہ یہ اسلام کے نام لیواﺅں کی کارروائی ہے اوریہ کہ ہمیں ان سے اپنے تعلق کو مکمل ختم کرناہوگا، یعنی ہر اُ س شخص سے جونمازپڑھتا، داڑھی رکھتا یا خلافِ اسلام رویّوں کو رد کرتا یا پھر امریکا کے خلاف کسی بھی قسم کی کوئی بات کرتا یا اس کی دہشت گردی کی کاروائیوں کی مذّمت کرتاہے۔
راقم نے یہ بات خاص طورپر نوٹ کی ہے کہ پاکستانی میڈیا میں ہر اس شخص یا تنظیم کو طالبان یادہشت گردوں کا ہمدرد، ساتھی اور معاون قراردیاجاتاہے جو پاکستان میں امریکی مداخلت یا افغانستان میں ہزاروں بے گناہوں کی شہادت کی بات کرتاہے اور ناپاک امریکی عزائم کو موضوعِ بحث بناتاہے۔
جماعتِ اسلامی کے نئے امیر سید منور حسن اس بات کے گواہ اور شاہد ہیں کہ کس طرح پاکستانی میڈیا نے ان کے امیر بننے کے بعد ان کے متواتر انٹریوز شائع اور نشر کیے اور ہر انٹرویو میں ان کو مخصوص سوالات کے ذریعے گھیرنے کی کوششیں کی گئیںاور انٹرویوز کرنے والے سننے اور دیکھنے والوں کو یہ تاثر دیتے رہے کہ جماعتِ اسلامی پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی مذّمت نہیں کرتی ہے بلکہ ملک میں طالبان کے نام سے دہشت گردی کی کاروائیوں کی ہمدردہے اور امریکا کی بلاوجہ مخالفت کرتی ہے۔ یو ایس ایڈفنڈڈ ایک چینل جس کا سی ای اوبھی یو ایس ایڈکا باقاعدہ ملازم ہواکرتاتھا اس کے ایک سینئراینکرجوکسی زمانے میں کراچی یونیورسٹی میں این ایس ایف کے کارکن اور کیپیٹل ازم اور امریکاکے بہت بڑے مخالف سمجھے جاتے تھے انہوں نے امیر جماعتِ اسلامی سے انٹریو میں اس حدتک اشتعال انگیز سوالات کئے کہ منورحسن کو کہنا پڑا کہ “یہ آپ امریکی ذہن سے سوچ رہے ہیں اور امریکی سوالات پوچھ رہے ہیں”۔ منورحسن صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ جس چینل کو خاص طورپر امریکی امداد کے ذریعے بنایاگیاہے اور جہاں ان تمام لوگوں کونوکری فراہم کی جاتی ہے جو اسلام یا اس کے نام لیواﺅں سے بیزاری رکھتے اور مغرب سے اپنا ناتا جوڑے ہوئے ہوں ۔ توکیا ایسے ٹیلی ویژن امریکی اور مغربی سوچ کی نمائندگی نہیں کریں گے؟
جویو ایس ایڈصرف بچوں کے چینل کےلئے ایک ارب 68کروڑ روپے فراہم کر رہی ہے اس نے 18کروڑ جیتے جاگتے باشعور پاکستانیوں کی ذہن سازی کیلئے اگر 100ارب بھی خرچ کئے ہیں تو یہ تھوڑے ہیں۔ اسی چینل پر اکثروبیشتر مذاکرے نشر ہوتے ہیں جن کا واحد مقصد عوام کے لاشعور یہ بات بٹھانا ہے کہ اچھے لوگ صرف وہ ہیں جو صبح کام پر جاتے ہیں اور اپنے ساتھ اور ملک کے ساتھ ہونے والی کسی بھی زیادتی پر زبان سے ایک حرف نہیں نکالتے۔ یہ اچھے لوگ نہ صرف کہ اسلام سے واجبی ساتعلق رکھتے ہیں بلکہ اسلامی کے نام لینے والوں یا ملک کی اسلامی اساس پر ضرب لگانے والوں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں یا احتجاج کرنے والوں سے بھی کوئی تعلق نہیں رکھتے ۔ کیونکہ یہ لوگ شلوار قمیض پہنتے، نماز پڑھتے اور داڑھی رکھتے ہیں اور مغرب خاص طورپر امریکا کی جانب سے بے گناہ مسلمانوں کا خون بہائے جانے پر احتجاج کرتے اور کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں لہٰذا ان میں اور طالبان میں کوئی فرق نہیں ہے لوگوں کا نہ صرف کہ ان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے بلکہ ان کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونا چاہیے۔
ایم کیوایم کی جانب سے بھی میڈیا کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جارہا ہے اور اب اکثر ایسی دینی سیاسی جماعتوں پر تنقید کی جاتی ہے جو ملک میں دہشت گردی کا ذمہ دار مغرب اور امریکا کو ٹھراتے ہیں۔ یہ تمام چینل کی امریکی یا مغرب مخالف خبر کو چند سیکنڈدیتے ہیں۔ لیکن اسلام کا دہشت گردی سے تعلق جوڑ نے میں ان کا بیشتر وقت گزر جاتا ہے۔
یو ایس ایڈکی جانب سے اربوں روپے کی سرمایہ کاری نہ صرف کہ پاکستانی معاشرے میں رنگ لارہی ہے بلکہ وہ دن زیادہ دور دکھائی نہیں دیتا جب اسلام کا نام لینا ایک جرم قرار پائے گا اور عوام میڈیا کے مستقل پراپیگنڈے کے زیرِ اثر پاکستانی عوام سے بات کرنابھی ناممکن ہوجائے گا۔ ابھی پاکستانی عوام کی مستقل طورپر دینی جماعتوں، مدرسوں اور علما کے خلاف ذہن سازی کی جارہی ہے تاکہ وہ ان کو معاشرے کا ناسور سمجھنا شروع ہوجائیں اور دوسرے مرحلے میں عوام اور سرکاری اداروں کو میڈیا کے پراپیگنڈے کے ذریعے اسلام کا نام لینے والی جماعتوں اور مدرسوں کے خلاف کاروائیوں پر اکسایاجائے گا۔ یو ایس ایڈکے فنڈڈ اسی چینل سے چند روز پہلے ڈاکٹر ہود بھا ئے اور ظفر خان مدرسوں اور اسلامی جماعتوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنارہے تھے اور مدرسوں کو دہشت گردی کی نرسریاں قراردیاجارہاتھا۔ یہاں تک کہاگیا کہ یہ مدرسے ہی دراصل اسلامی سیاسی جماعتوں اور دہشت گردوں کے مشترکہ طاقت کے مراکز ہیں اور اگرپاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے تو ان مدرسوں کا خاتمہ ضروری ہے۔
اگر ملک کے تمام علمائ، مدارس، دینی جماعتیں اور دینی سیاسی جماعتیں ایک ایسے پاکستان کے لیے تیار ہیں جہاں پر صرف اور صرف مغرب کا راج ہوگا اور جبرکے ذریعے اسلامی شعائر کی پابندی سے روکاجائے گا تو پھر ہمیں پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں مگر اگر ہم پاکستان اور اسلام کے تعلق کو سمجھتے ہیں اور واقعتا اسلام اور اللہ سے وابستگی رکھتے ہیں تو پھر ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہمیں مغرب کی یلغار خاص طورپر میڈیا کی یلغار سے کس طرح نمٹناہے۔
اس ملک میں جہاں لوگ دوسروں کی مدد کی خاطر سالانہ سور ارب سے زائد صدقہ وخیرات کرتے ہیں اور جہاں ایک سچے پاکستانی کی اپیل پرکینسر جیسے ہسپتال کو تعمیر اور کامیابی سے چلنا ممکن بناسکتے ہیں وہاں مغرب کے فنڈڈ چینل اور اخبارات کے مقابلے کیلئے 10 ،20یا 30کروڑ روپے جمع نہیں کئے جاسکتے؟ بات صرف اس کام کی اہمیت کو سمجھنے اور عزم کی ہے۔
یہاں ہنگامی بنیادوں پر ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے جس کاا پنا نیوز چینل، انگریزی اور اردو کا اخبار ،پبلشنگ ہاﺅس اور لکھنے والوں کی ایک معقول تعداد ہو جوکہ نہ صرف اردو میں بلکہ انگریزی میں شائع ہونے والے اسلام مخالف سینکڑوں مضامین کو چیلنج کریں اور ان کے خلاف دلائل کے ساتھ تحریریں لکھیں اور ان تمام اخبارات، رسائل اور چینلز کی باقاعدہ مانیٹرنگ کرےں تاکہ روزانہ کی بنیاد پر ان کے پراپیگنڈے کا مقابلہ کیاجائے۔
مغرب کے خلاف اردوزبان میں بہت سا ایسامواد موجود ہے جس کو انگریزی میں ترجمہ کرکے انٹرنیٹ کے ذریعے اور کتابوں اور رسائل کی شکل میں پاکستان میں انگریزی پڑھنے اور سمجھنے والے لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے بلکہ مغرب اور دنیابھر میں بسنے والے مسلمانوں کو بھی بتانا ضروری ہے۔ اس وقت پوری دنیا کا میڈیا یہودیوں اور اسلام دشمنوں کے ہاتھ میں ہے ایسے میں یہ سمجھنا کم فہمی ہے کہ ہم لوگوں کو مغرب کے ناپاک عزائم سے صرف بیانات اور احتجاجی مظاہروں سے آگاہ کر کے ان کی رائے کو مغرب کے ناپاک عزائم کے خلاف ہموار کرلیں گے۔
Saturday, August 14, 2010
منافقین کا طرز عمل
منافقین کا طرزِ عمل قرآن پاک کی روشنی میں
سورۂ منافقون غزوۂ بنی مصطلق کے زمانے میں نازل ہوئی۔ احادیث میں آتا ہے کہ اس غزوہ سے واپسی کے سفر میں ایک انصاری اور مہاجر کا جھگڑا ہوگیا۔ یہ کوئی انوکھی بات نہ تھی۔ جب لوگ ایک ساتھ رہتے اور ایک ساتھ اُٹھتے بیٹھتے ہوں، باہم معاملات کرتے ہوں تو اُن کے اندر جھگڑے ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ ایسے ہی کسی بات پر ایک مہاجر اور ایک انصاری کا جھگڑا ہوگیا۔ انصار کے ایک بڑے قبیلے بنوخزرج کا سردار عبداللہ بن اُبی جو اس وقت مدینے کا ایک بڑا قوم پرست (nationalist) لیڈر تھا، اس نے اس موقع پر یہ محسوس کیا کہ مدینے کے انصار اور مہاجرین کے درمیان نفاق ڈالنے اور ان کو لڑانے کا اچھا موقع ہے۔ چونکہ وہ مدینے کا ایک اہم سردار تھا اور سچے دل سے ایمان بھی نہیں لایا تھا، اس لیے اس کو یہ بات سخت ناگوار تھی کہ دوسرے شہر کے لوگ، یعنی مکی مہاجرین اور دوسرے قبیلوں سے آئے ہوئے لوگ مدینے کے اندر آکر بس گئے ہیں اور یہاں اپنے قدم جمارہے ہیں۔ لہٰذا اس نے جب یہ دیکھا کہ مہاجرین میں سے ایک آدمی اس کے قبیلے کے ایک آدمی سے جھگڑ پڑا ہے، تو اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر اس نے مدینے کے لوگوں کی عصبیت کو بھڑکانا اور ان کو مہاجرین کے خلاف اُکسانا شروع کردیا۔
قوم پرستی (نیشنلزم) کا جذبہ جب بھی پیدا ہوتا ہے توہر آدمی جو سمجھتا ہو کہ ایک خاص دائرے کے اندر اس کو برتری حاصل ہونی چاہیے وہ اس دائرے کے اندر والوں کو اپنا اور باہر والوں کو غیر سمجھتا ہے۔ جب صورتِ حال یہ پیدا ہوجاتی ہے تو ایک ملک کے اندر ضلع کی عصبیت پیدا ہوتی ہے اور ایک ضلع کے اندر تحصیل کی عصبیت پیدا ہوتی ہے۔ ایک تحصیل میں ایک تھانے کی اورایک شہر اور گاؤں کی عصبیت پیدا ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ برادری اور خاندان کی عصبیت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ لیکن دینی نقطۂ نظر سے یہ وہ چیز ہے جو اُن مقاصد کے بالکل خلاف ہے، جو اسلام کا مقصود ہیں۔ اسلام کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ جتنے انسان ایک کلمے کے اُوپر جمع ہوجائیں وہ ایک قوم بن جاتے ہیں۔ اس طرح تشکیل پانے والی قوم اور دراصل اُمت تمام دنیا کے انسانوں کو اپنے اندر سمیٹ سکتی ہے۔ اس کے برعکس جو دنیاوی نیشنلزم اور قوم پرستی ہے وہ چھوٹے سے چھوٹے دائرے کے آدمیوں کو جمع کرتی ہے، اور باہر والے لوگوں کے بارے میں ان کے اندر عداوت ڈالتی ہے۔ ان کے درمیان مناقشت (مخاصمت) اور کش مکش پیدا کرتی ہے۔
عبداللہ بن اُبی چونکہ قوم پرستانہ ذہن کا آدمی تھا اس لیے وہ اس موقع کی تاک میں تھا کہ مہاجرین کے خلاف انصار کو بھڑکائے اور بالآخر مہاجرین کو مدینہ سے نکالا جاسکے۔ چنانچہ اس نے اس موقع پر انصار کو بھڑکایا۔ اسی ترنگ میں اس نے ایک بڑی نازیبا بات کہی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ نعوذباللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین اہلِ مدینہ کے ٹکڑوں پر پل رہے ہیں اور اب نوبت یہ آگئی ہے کہ یہ ہمارے منہ آرہے ہیں۔ اس نے یہاں تک کہا کہ مدینے پہنچ کر ہم میں سے جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو نکال باہر کرے گا۔ یہ سورت اسی زمانے میں نازل ہوئی۔اس کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
اِِذَا جَآءَ کَ الْمُنَافِقُوْنَ قَالُوْا نَشْھَدُ اِِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ م وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِِنَّکَ لَرَسُوْلُہٗ وَاللّٰہُ یَشْھَدُ اِِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَکٰذِبُوْنَ o (المنافقون ۶۳:۱) اے نبیﷺ، جب یہ منافق تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں: ’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں‘‘۔ ہاں، اللہ جانتا ہے کہ تم ضرور اس کے رسول ہو، مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں
۔
مراد یہ ہے کہ اے نبیﷺ! تم اللہ کے رسولﷺ ہو، یہ بات تو ان کی جھوٹی نہیں ہے لیکن ان کا یہ کہنا کہ ہم گواہ ہیں کہ تم اللہ کے رسولﷺ ہو، یہ جھوٹ ہے۔ وہ ہرگز اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ تم اللہ کے رسول ہو۔ محض جھوٹ کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ تم اللہ کے رسول ہو۔ اللہ کے رسولﷺ تو تم ضرور ہو مگر اُن کی گواہی جھوٹی ہے۔
قسموں کو ڈھال بنانا
اِتَّخَذُوْٓا اَیْمَانَھُمْ جُنَّۃً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اِِنَّھُمْ سَآءَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (۲) اُنھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور اس طرح یہ اللہ کے راستے سے (خود رُکتے ہیں اور) دنیا کو روکتے ہیں۔ کیسی بُری حرکتیں ہیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔
انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا ہے، کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو آآکر کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسولﷺ ہیں اور ہم اس کی گواہی دیتے ہیں، اور مسلمانوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور ہم تمھاری ہی طرح ایمان لائے ہیں، اس بات کو اُنھوں نے ڈھال بنا لیا ہے۔ ڈھال بنانے کی نوعیت یہ تھی کہ مدینۂ طیبہ کے لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد مسلمان ہوگئی تھی اور اخلاص کے ساتھ ایمان لے آئی تھی اس نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دے کر مدینہ میں بلایا اور اپنا سردار اور فرماں روا بنا لیا، بغیر اس کے کہ حضورﷺ زبردستی اپنے آپ کو ان پر مسلط کرتے، انھوں نے برضا و رغبت آپ کی فرماں روائی تسلیم کی اور مان لیا کہ جب آپ اللہ کے رسولﷺ ہیں تو فرماں روائی بھی آپﷺ کی ہے۔ اس طرح جب حضورﷺ کی یہ پوزیشن مدینہ طیبہ میں بن گئی تو جو لوگ مدینہ کے سردار اور بااثر لوگ تھے انھوں نے یہ محسوس کیا کہ اگر اب ہم نے مقابلہ کیا تو آپس میں خانہ جنگی ہوسکتی ہے اورچونکہ بہت سے صاحبِ حیثیت آدمی اور سردار مسلمان بھی ہوگئے ہیں اور نوجوانوں کا بڑا طبقہ بھی مسلمان ہوگیا ہے، اس صورت حال میں اگر غیرمسلم رہتے ہیں تو جو آج تک ہماری چودھراہٹ تھی وہ ختم ہوجائے گی۔ اس لیے محض اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے وہ مسلمان ہوگئے۔ دوسرے الفاظ میں انھوں نے اپنے اسلام کو ڈھال بنا لیا۔ اس طرح درحقیقت وہ اپنی پوزیشن بچانا چاہتے تھے اور اسلام کو انھوں نے محض ڈھال کے طور پر سامنے رکھا۔
دوسری چیز یہ تھی کہ جب وہ مسلمان ہوگئے تو ان کو مسلمانوں کے اندر گھسنے کا موقع مل گیا۔ اگر کوئی مسلمان نہ ہو تو وہ مسلمانوں کے اندر گھس کر فساد برپا نہیں کرسکتا۔ ان کے مشوروں میں شریک ہوکر ان کے رازوں سے واقف نہیں ہوسکتا، لیکن اگر وہ مسلمان ہوجائے تو اس کے لیے پورے مواقع موجود ہوتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے اندرونی معاملات کو بگاڑ سکے۔ ان کے اندر نفاق ڈالنا اور ان کے مشورے میں شریک ہوکر ان کو ایک دوسرے سے لڑانے کی کوشش کرنا، یہ سارے کام بھی اس طرح کا آدمی کرسکتا ہے۔
اللہ کے راستے سے روکنا
اس کے بعد فرمایا کہ اپنی قسموں کو انھوں نے ڈھال بنالیا ہے اور اس ڈھال کی آڑ میں وہ اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں۔ اللہ کے راستے سے روکنے کی بہت سی صورتیں ہیں۔ اللہ کے راستے سے روکنے کی ایک شکل یہ تھی کہ وہ بظاہر مسلمانوں کے اندر شامل ہیں لیکن قرآنِ مجید کا کوئی ارشاد ہو یا حضورﷺ کا کوئی فعل، وہ اس کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں شکوک ڈالتے تھے تاکہ ان کے اندرایمان راسخ نہ ہوسکے۔
دوسری صورت یہ تھی کہ مسلمانوں کے اندر ایسی خبریں پھیلاتے تھے جن سے مسلمانوں میں انتشار اور کم حوصلگی پیدا ہو۔ دشمنوں کے مقابلے میں یہ خوف پیدا ہوا کہ فلاں قبیلہ تمھارے خلاف مجتمع ہورہا ہے اور وہ اتنی طاقت کے ساتھ تم پر حملہ آور ہونے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس طرح کی خبریں پھیلا پھیلاکر وہ مسلمانوں کے اندر اضطراب اور بے چینی پیدا کرتے تھے۔ اسی طرح مدافعت کی جو تیاری کی جاتی تھی، وہ اس کے اندر بھی رخنے ڈالنے کی کوششیں کرتے تھے۔ یہ بھی اللہ کے راستے سے روکنے کی ایک صورت تھی۔
تیسری صورت یہ تھی کہ عرب قبائل کے اندر مسلمانوں کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں طرح طرح کی جھوٹی خبریں پھیلایا کرتے تھے تاکہ ان کے دلوں میں اسلام کے متعلق عداوت اور منافرت پیدا ہو اور وہ اسلام اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں۔
یہ مختلف طریقے تھے جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے اور اسلام کے راستے میں سدِّراہ بن کر کھڑے ہوگئے تھے۔ ان کی سرتوڑ کوشش یہ تھی کہ یہ کام کسی طرح چلنے نہ پائے۔ اس پر فرمایا گیا: اِِنَّھُمْ سَآءَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (۲)، یعنی یہ بہت بُرے کرتوت ہیں جو یہ لوگ کررہے ہیں۔
دلوں پر مہر
ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ فَھُمْ لاَ یَفْقَھُوْنَ (۳) یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لاکر پھر کفر کیا اس لیے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی اللہ اور اس کے رسول کا صاف صاف انکار کردے تو اس بات کا امکان ہے کہ کسی وقت بات اس کی سمجھ میں آجائے اور وہ ہدایت قبول کر کے مسلمان ہوجائے۔ یہ اس وجہ سے کہ وہ مکار اور فریبی نہیں ہے، چال باز نہیں ہے۔ اس کے اندر اس طرح کا کھوٹ نہیں ہے کہ وہ بات کو مان بھی رہا ہے لیکن صدق دل سے نہیں مان رہا ہے، بلکہ صرف ماننے سے انکار کر رہا ہے۔ جس وقت بات اس کی سمجھ میں آجائے گی تو وہ اپنے قبولِ حق کا اظہار و اعلان کر دے گا۔ لیکن جو آدمی چال بازیاں کرتا ہے، مکاریاں کرتا ہے، فریب دیتا ہے، اس کے اندر سے وہ صلاحیت ختم ہوجاتی ہے کہ وہ سیدھی طرح سے ایمان لے آئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ماننے کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن اصل میں وہ کافر ہے۔بظاہر ماننے کی ایکٹنگ کر رہا ہے اور اندر سے مان نہیں رہا ہے۔ ماننے کے بعد وہ کام کر رہا ہے جو نہ ماننے والوں کے کرنے کے ہیں۔ ان حرکتوں کے بعد پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولِ ہدایت کی توفیق سلب ہوجاتی ہے۔ ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا جاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی توفیق سلب ہوجائے تو ان کے اندر یہ صلاحیت باقی نہیں رہتی کہ وہ غوروفکر کرسکیں اور سمجھ بوجھ سے کام لیں۔
اسی لیے یہ فرمایا گیا ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ان پر پڑ گئی ہے اور ان کے دلوں پر ٹھپہ لگ گیا ہے اس وجہ سے اتنی سیدھی بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ خدا کی ہدایت کے ساتھ چال بازی کا معاملہ کرکے وہ کیسے فلاح پائیں گے۔اسی ٹیڑھ کی وجہ سے آپ سیدھی بات ان سے کریں گے وہ اس میں سے ٹیڑھ نکال لیں گے۔
لکڑی کے کُندے
وَاِِذَا رَاَیْتَھُمْ تُعْجِبُکَ اَجْسَامُھُمْ ط وَاِِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِھِمْ ط کَاَنَّھُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَۃٌ ط یَحْسَبُوْنَ کُلَّ صَیْحَۃٍ عَلَیْھِمْ ط ھُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْھُمْط قٰتَلَھُمُ اللّٰہُ ز اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ (۴)اِنھیں دیکھو تو اِن کے جُثّے تمھیں بڑے شان دار نظر آئیں۔ بولیں تم تو ان کی باتیں سنتے رہ جاؤ۔ مگر اصل میں یہ گویا لکڑی کے کُندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چن کر رکھ دیے گئے ہیں۔ ہر زور کی آواز کو یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہ پکے دشمن ہیں، ان سے بچ کر رہو۔ اللہ کی مار ان پر، یہ کدھر اُلٹے پھرائے جا رہے ہیں۔
اس میں منافقین کی تصویر کھینچ دی گئی ہے۔ میں پہلے بتا چکاہوں کہ یہ مدینے کے بڑے بڑے چودھری اور سردار تھے، خوب کھاتے پیتے لوگ تھے۔ اور چربی بھرے ہوئے ان کے جسم تھے۔ اس کی طرف اشارہ کرکے فرمایا گیا کہ تم ان کو دیکھو تو ان کے جسم بڑے شاندار نظر آئیں گے۔ دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بڑی شخصیت (personality) کے مالک ہیں۔ اگر بات کریں تو ان کی بات سنتے رہ جاؤ، بڑی چکنی چپڑی باتیں کرنے والے بڑے زبان آور اور بڑی اعلیٰ درجے کی زبان استعمال کرنے والے لوگ ہیں مگر ان ظاہر فریب شخصیتوں کے ساتھ ان کی کیفیت یہ ہے کہ یہ گویا دیوار سے لگی ہوئی لکڑیاں ہیں، اندر سے کھوکھلے لوگ ہیں۔
عرب میں جو بت پوجے جاتے تھے وہ زیادہ تر لکڑی کے ہوتے تھے، پتھر کے بت کم تھے۔ ان بتوں کو بہت شاندار، رنگین اور بڑے بڑے نقش و نگار بناکر طرح طرح کے کپڑے پہناکر دیواروں کے ساتھ لگا کر رکھ دیا جاتا تھا۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ ان منافقوں کی حالت ان بتوں کی سی ہے جو کہ بظاہر بڑے شان دار نظر آتے ہیں لیکن ان کے اندر جان نہیں ہوتی۔یہ دیواروں کے سہارے کھڑے ہوتے ہیں، ان کے اندر اپنے بل بوتے پر کھڑے ہونے کی صلاحیت بھی نہیں ہے۔
مجرم ضمیر کی تصویر
یَحْسَبُوْنَ کُلَّ صَیْحَۃٍ عَلَیْھِمْ ہر آواز کو سمجھتے ہیں کہ وہ ان کے خلاف ہے۔
یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے۔ اگر ایک آدمی چوری کر رہا ہوتو ذرا سی آہٹ اور آواز کسی طرف سے آئے تو وہ فوراً بِدکتا ہے کہ میں مارا گیا۔ اسی طرح سے جو آدمی کسی معاشرے میں رہتے ہوئے اس معاشرے کے خلاف کام کر رہا ہے، کسی ریاست میں رہتا ہے اور غیرقانونی افعال میں ملوث ہے، دشمن سے ملا ہوا ہے، یا کسی سازش میں شریک ہے، تو ایسا آدمی اندر سے جانتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ اس کا دل اس بات سے باخبر ہوتا ہے کہ میں مجرم ہوں اور جرم کا ارتکاب کر رہا ہوں اس لیے ہر وقت اس بات کا امکان ہے کہ میرا راز فاش ہوجائے اور میری شامت آجائے۔ ایسے آدمی کے اندر ایک عجیب قسم کی بُزدلی موجود ہوتی ہے، اپنے جرم کا احساس موجود ہوتا ہے، اس لیے وہ ہر وقت خوف زدہ رہتا ہے۔ لہٰذا ہر آواز سے اس کو یہ خطرہ ہوتا ہے کہ میری شامت آئی۔
اس کے برعکس جو آدمی ایمان داری کے ساتھ کام کر رہا ہو، وہ بے خوف اور بے کھٹکے ہوتا ہے۔ وہ آدمی جو کچھ بھی خیالات رکھتا ہو، ان کو کھلم کھلا بیان کرتا ہے، جو کام بھی کرتا ہے، علانیہ کرتا ہے۔ اگر کسی سے لڑائی ہے تو کھلم کھلا لڑائی ہے۔ کسی کے ساتھ دوستی ہے تو ایمان داری کے ساتھ دوستی ہے۔ کسی کا مخالف ہے تو کھلم کھلا مخالف ہے۔ کسی کا موافق ہے تو علانیہ موافق ہے۔ جو بات کرتا ہے اطمینان اور ایمان داری کے ساتھ کرتا ہے۔ اس کے برعکس ایک منافق کا رویّہ ایک ڈرے ہوئے اور سہمے ہوئے سے انسان کی طرح ہوتا ہے، وہ اندر سے کمزور ہوتا ہے اس لیے ہر آواز سے اس کو احساس ہوتا ہے کہ بس اب اس کی شامت آرہی ہے۔
منافقین کی اس روش کی بنا پر انھیں مسلمانوں کا اصل دشمن قرار دیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا گیا:
ھُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْھُمْ (۴) یہی اصل میں دشمن ہیں، ان سے بچو۔
باہر والے دشمن کے مقابلے میں یہ چھپے دشمن زیادہ خطرناک ہیں۔ اس لیے ان سے ہوشیار رہو۔ ان کے ظاہر سے دھوکا نہ کھاؤ۔ ہر وقت خیال رکھو کہ یہ کسی وقت بھی دغا دے سکتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اپنا فیصلہ سنا دیا: قٰتَلَھُمُ اللّٰہُ اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ اللہ تعالیٰ ان کا ناس کرے، یہ کدھر اُلٹے پھرائے جارہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان کا ناس کرے___ عربی زبان کا محاورہ ہے، یعنی جب کہنا ہو کہ اس کا ستیاناس ہوجائے تو اس موقع پر بولا جاتا ہے۔ مزید کہا گیا کہ یہ دھوکا کھاکر کدھر جا رہے ہیں۔ یہ بظاہر دوسروں کو دھوکا دے رہے ہیں لیکن دراصل خود دھوکا کھا رہے ہیں اور اپنی تباہی کا سامان کر رہے ہیں۔
گھمنڈ اور غرور
وَاِِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْلَکُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ لَوَّوْا رُءُوْسَھُمْ وَرَاَیْتَھُمْ یَصُدُّونَ وَھُمْ مُّسْتَکْبِرُوْنَ o (۵) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ تاکہ اللہ کا رسول ﷺ تمھارے لیے مغفرت کی دعا کرے، تو سر جھٹکتے ہیں، اور تم دیکھتے ہو کہ وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ آنے سے رُکتے ہیں۔
یہ اشارہ ہے اس واقعے کی طرف کہ عبداللہ بن اُبی نے غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر مسلمانوں کو باہم لڑانے کی کوشش کی تھی اور اس طرح کی باتیں کی تھیں کہ یہ مہاجرین جب ہمارے ہاں آئے تھے تو بھوکے ننگے تھے۔ اور اس کے بعد پھر یہ حالت ہوگئی ہے کہ یہ انصار کے خلاف جری ہوگئے ہیں اور ان سے لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ اس موقع پر اس نے یہ الفاظ بھی کہے تھے کہ اب مدینہ چل کر جو ہم میں سے عزت والا ہے وہ ذلت والے کو نکال باہر کرے گا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اس کی اطلاع پہنچی اور عبداللہ بن اُبی کو بھی خبر دی گئی کہ رسول اللہ ﷺ کو اس بات کا پتا چل گیا ہے کہ تم نے کیا باتیں کی ہیں تو انصار کے بعض لوگوں نے اس سے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو اور ان سے اس کی معافی مانگو اور یہ درخواست بھی کرو کہ آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے مغفرت کے لیے دعا کریں، تو اس نے بڑی نفرت سے منہ پھیرا اور اکڑ کر یہ کہا کہ تم لوگوں نے مجھے کہا کہ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لاؤ تو میں ایمان لے آیا، تم نے کہا کہ نماز پڑھو تو میں نماز بھی پڑھنے لگا، تم نے کہا کہ زکوٰۃ دو تو میں نے زکوٰۃ بھی دینی شروع کر دی، اب بس یہ کسر رہ گئی ہے کہ تم کہو کہ محمدﷺ کو سجدہ کرو تو یہ تو میں کرنے سے رہا۔
گویا اس کے نزدیک اس کا یہ بہت بڑا احسان تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا، جب کہ اس کے قبیلے کے لوگ اس کو بادشاہ بنانے کا فیصلہ کرچکے تھے۔ گویا اس کے بقول: پھر یہ کیا کم مہربانی تھی کہ میں لوگوں کے کہنے پر نماز بھی پڑھنے لگا، زکوٰۃ بھی دینے لگا، اور اب تم اتنے بڑے رئیس کو یہ کہہ رہے ہو کہ جاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کرو کہ وہ تمھارے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کریں ،تو گویا بس اب ان کو سجدہ کرنے کی کسر باقی رہ گئی ہے۔ اس کے بارے میں یہ فرمایا گیا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ تاکہ اللہ کا رسول ﷺ تمھارے لیے مغفرت کی دعا کرے تو (تم دیکھتے ہو کہ) یہ بڑے تکبر کے ساتھ منہ پھیرتے ہیں۔ )
منافق کے لیے ہدایت نہیں
سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَھُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ ط لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَھُمْ ط اِِنَّ اللّٰہَ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ۶)) اے نبیﷺ، تم چاہے ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو یا نہ کرو، ان کے لیے یکساں ہے، اللہ ہرگز انھیں معاف نہ کرے گا، اللہ فاسق لوگوں کو ہرگز ہدایت نہیں دیتا۔
یہ بات سورۂ توبہ میں بھی ارشاد ہوئی ہے اور یہاں تک فرمایا گیا کہ اگر تم ان کے لیے ۷۰مرتبہ بھی مغفرت کی دعا کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کو قبول نہیں کرے گا۔ یہاں یہی بات ان الفاظ میں فرمائی گئی کہ تم چاہے ان کے لیے مغفرت کی درخواست کرو یا نہ کرو، اللہ ان کو ہرگز معاف نہیں کرے گا۔ کیوں؟___ اس وجہ سے کہ اللہ کو ایمان کے دعوے کے ساتھ مکّاری کسی طرح پسند نہیں۔
ایک آدمی مشرک، کافر، بدعتی، جو بھی ہے، اللہ سے معافی مانگے تو اس کی معافی ہوجائے گی۔ اس کے اندر کم از کم یہ شرافت تو موجود ہے کہ جس چیز کو مانتا ہے اس کو سیدھی طرح سے مانتا ہے۔ لیکن جو آدمی اپنے خدا سے بھی مکّاری کرے، جس معاشرے میں وہ رہتا ہے اس سے بھی مکّاری کرے، وفاداری کا دم بھی بھرے اور وفادار نہ بھی ہو، اپنے آپ کو مخلص مومن کی حیثیت سے پیش کرے لیکن حقیقت میں اس کے اندر کوئی اخلاص نہ ہو، بظاہر مطیع فرمان بنا پھرتا ہو لیکن درحقیقت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے پر تلا ہوا ہو___ ایسے آدمی کے لیے کوئی معافی نہیں۔یہاں تک فرمایا گیا کہ اگر رسولﷺ اللہ بھی اس کے حق میں مغفرت کی دعا مانگیں تو ان کی دعا بھی قبول نہیں ہوگی۔
دوسرے الفاظ میں یوں کہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت بھی ہرشخص کے لیے نافع نہیں اور کسی کے لیے دعاے مغفرت کرنا بھی شفاعت ہے___ ظاہر بات ہے کہ شفاعت زندگی میں بھی ہوسکتی ہے اور آخرت میں بھی ہوگی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک کی شفاعت کے معاملے میں کیفیت یہ ہے کہ حضورﷺ کی شفاعت اللہ کو مجبور کرنے والی نہیں۔ اس کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا پورا اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ حضورﷺ اللہ کے بندے ہیں، خدائی میں شریک نہیں ہیں۔ آپﷺ کا کام گزارش کرنا ہے،دعا کرنا ہے، قبول کرنا نہ کرنا بالکل اللہ کے اختیار میں ہے۔ کسی شخص کا یہ خیال کرنا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص کے حق میں دعاے مغفرت فرما دیں تو وہ یقیناًبخشا جائے گا، درست نہیں___ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بات فرمائی ہے کہ یہ بات یکساں ہے کہ چاہے تم ان کی مغفرت کی دعا کرو یانہ کرو، اللہ تعالیٰ ہرگز ان کو نہیں بخشے گا۔
اِِنَّ اللّٰہَ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ (۶) اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اطاعت کے دائرے سے جان بوجھ کر نکل جاتے ہیں، ان کے لیے کوئی ہدایت نہیں ہے۔ فِسق کے معنی ہیں اطاعت سے جان بوجھ کر نکل جانا۔ ایک وہ آدمی ہے جو بھولے سے اطاعت کے دائرے سے نکل گیا، لغزش کھا گیا، ٹھوکر کھا گیا۔ اس کے برعکس ایک آدمی وہ ہے جو جان بوجھ کر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت نہیں کرنی ہے، وہ فاسق ہوتا ہے۔ ہر گناہ گار کافر نہیں۔ فرق یہ ہے کہ جس شخص سے غفلت کی بنا پر کوئی قصور ہوگیا، وہ فاسق نہیں گناہ گار ہے۔ لیکن جس آدمی نے جان بوجھ کر فیصلہ کیا ہو کہ مجھے اطاعت قبول نہیں کرنی ہے بلکہ نافرمانی کی راہ پر چلنا ہے، وہ فسق کا ارتکاب کرتا ہے، اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ ظاہر بات ہے کہ مغفرت اُسی شخص کی ہوسکتی ہے جو راہِ راست اختیار کرے، ہدایت قبول کرے لیکن جو شخص ہدایت اختیار نہیں کرتا اس کی مغفرت کیسے ہوسکتی ہے۔ جو آدمی پہلے گمراہ تھا لیکن سیدھے راستے پر آگیا اس کی معافی قبول ہونے کا امکان ہے، کیونکہ اس نے نافرمانی اور گمراہی کو چھوڑ کر اطاعت اور ہدایت کی راہ اختیار کرلی۔
اس کے برعکس جس نے جان بوجھ کر ٹھنڈے دل سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کا فیصلہ کیا ہو تو اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ اس کو ہدایت دے۔ اللہ آقا ہے اور بندہ، بندہ اور غلام ہے۔ اگر بندہ اپنے آقا کے مقابلے میں جان بوجھ کر بغاوت کا رویہ اختیار کرے اور اکڑ کر چلاجائے کہ مجھے اس کی اطاعت نہیں کرنی ہے، تو کیا آقا کا یہ کام ہے کہ وہ اس کے پیچھے پیچھے پھرے کہ تو میری طرف چلا آ۔ آقا کا تو یہ کام ہے کہ اس سے کہے کہ تو جا اور اپنا انجام دیکھ۔ یہ مفہوم ہے اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ کا۔ اللہ کا کام یہ نہیں ہے کہ جو آدمی اس کی اطاعت نہیں کرنا چاہتا، اللہ اس کے پیچھے پیچھے پھرے کہ تو ہدایت قبول کرلے۔ جو ہدایت نہیں چاہتا، اس کے لیے ہدایت نہیں ہے، اور جب اس کے لیے ہدایت نہیں تو اس کے لیے مغفرت بھی نہیں ہے ۔
اہلِ ایمان سے عناد
ھُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لاَ تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنْفَضُّواط وَلِلّٰہِ خَزَآءِنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلٰکِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لاَ یَفْقَھُوْنَ ۷)) یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسولﷺ کے ساتھیوں پر خرچ کرنا بند کر دو تاکہ یہ منتشر ہوجائیں۔ حالانکہ زمین اور آسمانوں کے خزانوں کامالک اللہ ہی ہے، مگر یہ منافق نہیں سمجھتے ہیں۔
یہ بات بھی رئیس.ُ المنافقین عبداللہ بن اُبی نے کہی تھی۔ جب غزوۂ بنی المصطلق کے موقع پر ایک انصاری اور ایک مہاجر کے درمیان جھگڑا ہوا تو اس نے انصار کو خوب بھڑکایا، انھیں مہاجرین کے خلاف خوب اُکسایا اور کہا کہ یہ لوگ تو فاقے کرتے ہوئے آئے تھے۔ تمھی نے ان کو اپنی جایدادوں میں شریک کیا، ان کو اپنے گھر تک رہنے کے لیے دیے، ان پر اپنے مال خرچ کیے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج یہ تمھارے منہ آرہے ہیں۔ اب مدینہ واپس جاکر ان پر اپنا مال خرچ کرنا بند کرو، جو گھر ان کو دیے تھے ان سے ان کو نکالو اور جن جایدادوں میں ان کو حصہ دار بنایا تھا وہ ان سے واپس لو، جو قرض ان کو دیے تھے وہ قرض وصول کرو، اور آیندہ ان کی مدد کرنا بند کرو۔ دیکھنا چند روز میں یہ تمھیں چلتے پھرتے نظر آئیں گے۔
اس منافق کے اس قول پر یہ فرمایا گیا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ جو لوگ ہیں ان کے اُوپر خرچ کرنا بند کر دو تاکہ وہ چھٹ کر الگ ہوجائیں، یہاں سے چلے جائیں، حالانکہ ان منافقین کو معلوم نہیں ہے کہ زمین و آسمان کے خزانے اللہ کے پاس ہیں۔ یہ لوگ محض جہالت اور نادانی کی باتیں ہیں کہ اگر یہ لوگ مہاجرین کی مدد نہ کرتے تو انھیں کوئی ٹھکانہ میسر نہ آتا، حالانکہ وہ ان کے رازق نہیں، بلکہ وہ خود بھی کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔ وہ اپنے رزّاق خود نہیں ہیں۔ ان کے پاس جو کچھ ہے اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اگر تم نے یہ سلوک مہاجرین کے ساتھ اپنے ایمان اور اخلاص کی بنا پر کیا تھا تو پھر احسان کیسا!۔ اگر تم یہ سب کچھ نہ بھی کرتے تو اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے ان کی ہر ضرورت کا سامان مہیا کرتا۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کے خزانوں کا مالک ہے۔ اس کے پاس کس چیز کی کمی ہے؟
عزت اور ذلّت کا معیار
یَقُوْلُوْنَ لَءِنْ رَّجَعْنَآ اِِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْھَا الْاَذَلَّ ط وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلٰکِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ o (۸) یہ کہتے ہیں کہ ہم مدینے واپس پہنچ جائیں تو جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا۔ حالانکہ عزت تو اللہ اور اس کے رسولﷺ اور مومنین کے لیے ہے، مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں۔
جیساکہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ عبداللہ بن اُبی نے یہ دریدہ دہنی بھی کی تھی اور اس کا مطلب ذلت والے سے مراد نعوذ باللہ نبی کریمﷺ کی ذاتِ اقدس تھی۔ اس کے قول کا مطلب یہ تھا کہ ہم جو عزت والے ہیں مدینہ پہنچ کر نعوذباللہ رسولﷺ اللہ کو مدینہ سے نکال دیں گے۔ یہ بات رسولﷺ اللہ تک بھی پہنچی اور صحابہ کرامؓ نے بھی سنی۔ رسولﷺ اللہ چونکہ نہایت درجے کے غیرمعمولی متحمل مزاج تھے اس لیے آپ نے اس کی یہ بات سنی اور سن کر ٹال دی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب معلوم ہوا کہ عبداللہ بن اُبی نے نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے تو انھوں نے آکر حضورﷺ سے عرض کیا کہ حضورﷺ، اگر اجازت ہو تو میں جاکر اس منافق کا سر قلم کر دوں۔ ظاہر بات ہے کہ یہ دراصل ارتداد کا فعل تھا کہ ایک شخص اسلام قبول کرنے اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے کے بعد پھر اللہ کے رسولﷺ کو نعوذ باللہ ذلیل کہتا ہے___ اس سے زیادہ ارتداد کا فعل اور کیا ہوسکتا ہے۔
ظاہر بات ہے کہ اگر ایک شخص قرآن کی توہین کرے، اللہ کو یا اس کے رسولﷺ کو گالی دے تو وہ تو نہ صرف یہ کہ مرتد ہے بلکہ نہایت ذلیل قسم کا مرتد ہے۔ اس لیے حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ میں جاکر اس مرتد کا سر قلم کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا کہ میں نہیں چاہتا کہ عرب کے لوگ یہ کہیں کہ محمدﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرا رہا ہے۔ کیونکہ باہر کے لوگوں کو تو معلوم نہیں کہ عبداللہ بن اُبی ایک منافق ہے، باہر کے لوگوں کو تو یہ معلوم ہے کہ عبداللہ بن اُبی مسلمانوں کا ایک سردار ہے۔ اس کے علاوہ جو دوسرے منافق تھے ان کے بارے میں بھی باہر کے لوگ یہی جانتے تھے کہ وہ مسلمان ہیں۔ اگر عبداللہ بن اُبی کو قتل کر دیا جاتا تو باہر کے لوگ یہ کہتے کہ دیکھیے ان کے درمیان کیسی پھوٹ پڑی ہے کہ اب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے ساتھیوں کو قتل کرا رہے ہیں۔ یہ بات حکمت کے خلاف ہوتی اور اس سے اسلام کی شہرت کو نقصان پہنچتا۔ اس لیے حضورﷺ نے یہ فیصلہ کیا کہ آپ کو یہ کام نہیں کرنا ہے۔
عبداللہ بن اُبی کا اپنا بیٹا نہایت مخلص مسلمان تھا۔ اس تک بھی یہ بات پہنچ چکی تھی۔ اس نے آکر عرض کیا کہ حضورﷺ اگر آپ کو میرے باپ کا سر چاہیے تو کسی اور کو حکم دینے کے بجاے مجھے حکم دیجیے، میں جاکر اس کا کام تمام کرتا ہوں۔ لیکن حضورﷺ نے اس کو منع کر دیا۔ یہ بات پہلے بیان کی جاچکی ہے کہ یہ واقعہ غزوہ بنی المصطلق سے واپسی کے راستے میں مدینہ پہنچنے سے پہلے پیش آیا تھا۔ جب حضورﷺ مدینہ پہنچے تو عبداللہ بن اُبی کا اپنا بیٹا مدینہ کے دروازے پر کھڑا ہوگیا اور اس نے اپنے باپ سے کہا کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے اس وقت تک آپ مدینہ میں داخل نہیں ہوسکتے۔ اور فرمایا کہ عزت والے تو وہ ہیں، آپ نہیں۔ وہ اجازت دیں گے تو آپ مدینہ میں آسکیں گے ورنہ نہیں۔ آپ نے تو کہا تھا کہ عزت والا ذلت والے کو نکال باہر کرے گا۔ اب آپ فیصلہ کرلیجیے کہ عزت والا کون ہے اور ذلیل کون ہے؟ بیٹا باپ کے سامنے روک بن کر کھڑا تھا۔ یہ تھا اس کا اخلاصِ ایمانی!
ایمان دراصل اس چیز کا نام ہے کہ اللہ اور رسولﷺ کو مان لینے کے بعد کسی اور رشتے داری کا پاس نہ ہو۔ اہلِ کفر سے تمام رشتے ختم ہوجاتے ہیں۔ نہ باپ باپ ہے، نہ بیٹا بیٹا، اور نہ بھائی بھائی ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے راستے میں آکر دشمن کی حیثیت سے کھڑا ہوجائے تو باپ اپنے بیٹے کو قتل کرے گا، اور بیٹا اپنے باپ کو قتل کرے گا اور یہ مظاہرہ جنگِ بدر میں ہوچکا تھا۔ اللہ اور رسولﷺ کو ماننے کا اخلاص یہی ہے۔ جس جگہ معاملہ دینی حمیت اور غیرت کا ہو، اس جگہ آکر وہ اپنے جذبات پر چھری پھیر دے گا۔ کوئی پروا نہ کرے اس بات کی کہ اگر میں نے اپنے بیٹے کو قتل کر دیا، یا بیٹے نے باپ کو قتل کردیا تو دل پر کیا گزرے گی۔ جو گزرتی ہے گزر جائے لیکن اللہ کی راہ میں اخلاص کا تقاضا یہی ہے کہ ہر رشتے، ہر جذبے اور ہر شے پر اللہ اور اس کے رسول ﷺکو مقدم رکھا جائے۔ اللہ اور رسول ﷺ کے مقابلے میں ہرچیز کو قربان کر دیا جائے۔
یہی بات اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک احمق یہ کہتا ہے کہ عزت والا ذلت والے کو نکال دے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ عزت اللہ، اس کے رسول ﷺ اور مومنین کے لیے ہے۔ کوئی عزت والا ہونے کا دعویٰ کرے تو اس کی کوئی عزت نہیں۔ عزت صرف اللہ، اس کے رسول ﷺ اور مومنین کے لیے ہے۔
نفاق کا سبب
یاََیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تُلْھِکُمْ اَمْوَالُکُمْ وَلَآ اَوْلاَدُکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ ج وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۹)) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمھارے مال اور تمھاری اولادیں تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں۔ جو لوگ ایسا کریں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔
یہ سورۂ منافقون کا دوسرا اور آخری رکوع ہے۔ اس سے پہلے یہ بتایا گیا کہ مدینہ کے منافقین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں یہ روش اختیار کیے ہوئے تھے کہ آپ کی رسالت کا اقرار کرتے تھے اور قسمیں کھاکا کر یہ یقین دلاتے تھے کہ ہم آپ کو اللہ کا رسول مانتے ہیں لیکن اس کے بعد حضورﷺ کے خلاف، دعوتِ دین کے خلاف اور مسلمانوں کے خلاف ہر طرح کی چال بازیاں اور مکّاریاں کرتے تھے۔ اس کے بعد یہ فرمانا کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم کو تمھارے مال اور تمھاری اولاد اللہ کی یاد سے غافل نہ کردے، اور جو تم میں سے ایسا کرے وہ خسارے میں پڑنے والا ہے، تو یہ بات ارشاد فرمانے سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ منافقین کو جس چیز نے منافقانہ روش پر آمادہ کیا تھا وہ مال اور اولاد کا مفاد تھا۔ جب تک ایک آدمی کی اپنے مال اور اولاد کی محبت، خدا اور اس کے دین سے اور حق سے منحرف کردینے کی حد تک نہ پہنچ جائے، اس وقت تک آدمی منافقانہ روش اختیار نہیں کرتا۔ اس لیے فرمایا کہ تمھارا مال اور تمھاری اولاد تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کردے۔
اصل میں لفظ لاَ تُلْھِکُمْ استعمال کیا گیا ہے۔ لَھْو اس چیز کو کہتے ہیں جس میں آدمی کو دل چسپی اور مشغولیت اتنی بڑھ جائے کہ دوسری چیزوں سے اس کو غفلت لاحق ہوجائے۔ اسی بنا پر گانے بجانے اور کھیل کود کو لَھْو کہتے ہیں کیونکہ آدمی ان کے اندر اتنا مشغول اور منہمک ہوجاتا ہے کہ اس کو کسی اور چیز کا ہوش نہیں رہتا۔ یہی لفظ یہاں استعمال کیا گیا کہ مال اور اولاد کا مفاد تم کو ایسا غافل نہ کردے، اپنے ساتھ اتنا مشغول نہ کرلے کہ تم اللہ کی یاد سے غافل ہوجاؤ۔
ایک منافق درحقیقت اس وجہ سے منافق ہوتا ہے کہ اس کو خدائی ہدایت کے مقابلے میں اپنا دنیوی مفاد عزیز ہوجاتا ہے۔ وہ اس کو اپنی طرف اتنا متوجہ کرلیتا ہے کہ وہ خدا کو بھول جاتا ہے۔ مثلاً ایک آدمی اپنی تجارت کو بڑھانے اور اسے ترقی دینے اور ہرممکن طریقے سے اپنی دولت کو نشوونما دینے کی اتنی فکر لاحق ہوجاتی ہے کہ اس کو اس بات کی بھی پروا نہیں رہتی کہ حلال کیا ہے اور حرام کیا ہے۔ وہ ہرممکن طریقے سے اپنی دولت کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح جب وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اگر میں حق کی حمایت کروں تو میری جایداد کو نقصان پہنچے گا، میری تجارت بیٹھ جائے گی، میرے دوسرے مالی مفادات پر ضرب آئے گی، اس لیے میں ٹھنڈے دل سے فیصلہ کرتا ہوں کہ حق اور باطل کے جھگڑے میں نہ پڑوں، حق کے لیے مرنے، کٹنے والے نعوذباللہ بہت سے بے وقوف موجود ہیں، مجھے تو اپنے مفاد کی حفاظت کرنی چاہیے۔ اسی طرح ایک آدمی اپنی اولاد اور بیوی کے عیش و آرام کی خاطر حرام کماتا ہے، رشوتیں کھاتا ہے، غبن اور خیانتیں کرتا ہے۔ ہر طرح کی بے ایمانیاں کرکے کوشش کرتا ہے کہ اپنی بیوی کو زیادہ سے زیادہ عیش کرائے، اور اپنے نزدیک اپنی اولاد کا مستقبل بہتر بنانے کے لیے سروسامان مہیا کرے۔ لیکن یہی وہ چیز ہے جو آدمی کو اس کے خدا، اس کے رسولﷺ اور اس کے دین کے معاملے میں منافقانہ روش پر اُبھارتی ہے۔ اگر یہ چیز نہ ہو تو آدمی منافقت اختیار نہیں کرتا۔
کسی کو اللہ کے ذکر سے غافل کر دیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی اللہ اللہ کرنے سے رُک جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اللہ کو بھول جائے۔ یہ خیال اس کے دل سے نکل جائے کہ اُوپر کوئی خدا بھی ہے جس کے سامنے جاکر اسے کبھی اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے۔ یہ خیال اگر کسی آدمی کے دل میں رہے تو وہ کبھی اس کے لیے آمادہ نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنی اولاد کے مفاد کے لیے، اپنی بیوی کو عیش کرانے کے لیے اور اپنی دولت بڑھانے کے لیے کوئی ایساکام کرے جس کا انجام ہمیشہ کے لیے جہنم میں لے جانے کا سبب ہو۔
قرآن مجید میں جگہ جگہ یہ بات بیان کی گئی ہے کہ یہ مال اور اولاد آخرت میں تمھارے کام آنے والی چیز نہیں ہے، بلکہ اس کے برعکس جن لوگوں کے عیش اور آرام کے لیے تم یہاں بے ایمانیاں کرتے ہو، قیامت کے روز وہی اُٹھ کر تمھارے خلاف گواہ بنیں گے۔ بجاے اس کے کہ وہ یہ کہیں کہ ہمارے باپ نے ہمارے لیے بڑی تکلیفیں اُٹھا کر اور ایمان کو بیچ کر حرام دولت کمائی تھی، اس لیے اب اس کی جگہ ہمیں جہنم میں بھیج دیا جائے۔ کوئی اولاد اس کے لیے تیار نہیں ہوگی۔ کوئی باپ اپنے بیٹے کے لیے جہنم میں جانے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ بھائی بھائی کے لیے تیار نہیں ہوگا بلکہ اس کے برعکس اس غفلت پیشہ اور غلط کار انسان کے خلاف جو مقدمہ قائم ہوگا، یہی لوگ آکر اس کے خلاف گواہی دیں گے کہ اس طرح اس نے رشوتیں کھا کر، بے ایمانیاں کر کے یہ دولت کمائی تھی۔ ہمیں بھی حرام سے پالا اور خود بھی حرام کھایا۔ یہ بات قرآنِ مجید میں مختلف مقامات پر بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ یہی تمھاری بیویاں، اولاد کل تمھارے خلاف گواہ بننے والی ہے، اگر ان کی خاطر آج تم نے بے ایمانیاں کیں۔ یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور اس کی ہدایت سے غافل نہ ہو۔ اس بات کو بھول مت جاؤ کہ تمھیں کبھی خدا کے ہاں جاکر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے۔ مزید فرمایا:
وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَاُولِٰکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ (۹) جو لوگ یہ روش اختیار کریں گے یہی آخرکار خسارے میں جانے والے ہیں۔
خسارہ اس چیز کو کہتے ہیں کہ آدمی جس کاروبار میں اپنا سرمایہ لگائے، اس میں اپنی محنتیں اور وقت صرف کرے اور اس کے بعد وہ سب کچھ لگا لگایا ڈوب جائے۔ اسی طرح اگر ایک آدمی اپنی تمام محنتیں، قوتیں اور تمام ذرائع و وسائل ایک ایسے کام میں لگا رہا ہے جو اس کو لے جاکر آخرکار جہنم میں جھونکنے والا ہے، تو ظاہر ہے کہ اس سے بڑا کوئی خسارہ نہیں ہوسکتا۔
مہلتِ عمل کو غنیمت جانو
وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْلاآ اَخَّرْتَنِیْٓ اِِآٰی اَجَلٍ قَرِیْبٍ لا فَاَصَّدَّقَ وَاَکُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ o وَلَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰہُ نَفْسًا اِِذَا جَآءَ اَجَلُھَا ط وَاللّٰہُ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۱۰)۔۱۱) جو رزق ہم نے تمھیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور اُس وقت وہ کہے کہ ’’اے میرے رب، کیوں نہ تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور دے دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالح لوگوں میں شامل ہوجاتا‘‘ حالانکہ جب کسی کی مہلتِ عمل پوری ہونے کا وقت آجاتا ہے تو اللہ اس کو ہرگز مہلت نہیں دیتا، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے باخبر ہے۔
ایک آدمی کا اس سے زیادہ احمقانہ فعل کوئی نہیں ہے کہ آج اس کو جو زندگی اور مہلت عمل ملی ہوئی ہے اس میں وہ اللہ تعالیٰ کو بھول جائے۔ اس سے منہ موڑ کر اپنے دنیوی مفاد کی پرستش میں لگارہے، اور مرتے وقت اس کو یہ احساس ہو کہ میں نے کیا کیا، کس خطرے میں اپنے آپ کو ڈال دیا۔ جب وہ دیکھ رہا ہو کہ اب میں تباہی کی طرف جا رہا ہوں، اس وقت وہ اللہ تعالیٰ سے کہے کہ مجھے تھوڑا سا وقت اور دے دے تاکہ میں اپنے مال کو آپ کی راہ میں خرچ کروں، تو اس کو یہ مہلت نہیں دی جائے گی۔ فرمایا گیا: وَلَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰہُ نَفْسًا اِِذَا جَآءَ اَجَلُھَا طا وَاللّٰہُ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ ’’اللہ کسی متنفس کو مہلت دینے والا نہیں ہے، جب کہ اس کی اجل آجائے، اور اللہ کو خبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو‘‘۔
اَجل کہتے ہیں مدت مقررہ کو جو پہلے سے طے کر دی گئی ہو کہ فلاں شخص کو اتنا وقت دیا جائے گا۔ مثلاً امتحان کے کمرے میں آپ بیٹھتے ہیں تو یہ طے ہوتا ہے کہ مثلاً تین ساڑھے تین گھنٹے کا وقت آپ کو پرچہ حل کرنے کے لیے دیا جائے گا۔ اس تین ساڑھے تین گھنٹے کی جو مہلت ہے اس کا نام اَجل ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے طے کردیا گیا ہے کہ اس آدمی کو دنیا میں کام کرنے کے لیے اتنا وقت دیا جائے گا اور ایسی ہی مہلت قوموں کو بھی دی جاتی ہے۔ قرآنِ مجید میں قوموں کی زندگی اور مہلتِ عمل کے لیے بھی اَجل کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کہ جب کسی قوم کی اَجل آن پوری ہوتی ہے تو پھر چند لمحوں کی بھی تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی۔ اس سے پہلے اس کی مہلت ختم ہوتی ہے اور نہ اس کے بعد ہی اس کو مزید وقت دیا جاتا ہے۔
یہاں یہ فرمایا گیا کہ جس شخص کے لیے جو اَجل مقرر کر دی گئی ہے، اور اس کے لیے جو مدت طے کر دی گئی ہے،اس کے بعد کسی شخص کو کوئی مہلت نہیں دی جاتی۔ یہ نہیں ہوتا کہ اس کے کہنے پر اس کو مزید کچھ وقت دے دیا جائے۔ لہٰذا جس آدمی کو اپنی عاقبت کے لیے جو بھی عمل کرنا ہے، وہ اس وقت کے اندر اس کو کرلینا چاہیے، جب کہ وہ دیکھ رہا ہے کہ میں تندرست ہوں، زندہ ہوں، اور بظاہر موت کا وقت بھی قریب نہیں ہے۔ لیکن جس وقت آدمی دیکھے کہ آخری وقت آگیا ہے، یا کوئی ایسی بیماری آگئی ہے کہ جس کی وجہ سے اس کو معلوم ہوگیا ہے کہ اس کا آخری وقت آگیا ہے، اس وقت آدمی کا یہ چاہنا کہ مجھے مزید وقت ملے تاکہ میں اپنی عاقبت سنوارنے کے لیے کوئی نیک عمل کرلوں تو یہ محض اس کی حماقت ہے۔ آج تک دنیا میں یہ نہیں ہوا ہے کہ جس شخص کی موت کا جو وقت مقرر ہے، وہ چند لمحوں کے لیے بھی ٹل جائے۔ وَاللّٰہُ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ ’’اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے‘‘۔
وہ بے خبر نہیں ہے۔ اللہ کو معلوم ہے کہ ایک ایک آدمی کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو کتنی کچھ نصیحت کی گئی۔ فقط ایک کتاب ہی پر موقوف نہیں، بے شمار طریقوں سے آدمی کی نصیحت کا سامان کیا جاتا ہے۔ ایک آدمی کو جو طرح طرح کے حادثات پیش آتے ہیں یا اس کی آنکھوں کے سامنے اس طرح کے واقعات گزرتے ہیں، ان سب میں ایک طرح کی تنبیہہ اور عبرت کا سامان ہوتا ہے، تاکہ آدمی اس سے سبق حاصل کرے۔
پھر اللہ تعالیٰ کو یہ بھی معلوم ہے کہ کتنے کتنے مواقع پر تمھارے لیے نصیحت اور یاد دہانی کا انتظام کیا گیا کہ تم ہوش میں آؤ اور سمجھو کہ ہماری اس دنیا پر تمھاری کیا پوزیشن ہے۔ کون سی چیزیں عاقبت درست کرنے والی ہیں، اور کون سی چیزیں ایسی ہیں جو آدمی کی عاقبت تباہ کرنے والی ہیں۔ کوئی آدمی آپ کو ایسا نہیں ملے گا جو اس چیز کو نہ سمجھتا ہو۔ اس کے بعد اگر ایک آدمی آخرت سے غافل ہوتا ہے اور اپنا سارا وقت اور محنتیں صرف اس دنیا کو بنانے کے لیے صرف کردیتا پھر وہ عین مہلت ختم ہونے کے وقت مزید ملت مانگے، تو اللہ تعالیٰ کو کوئی غرض نہیں پڑی ہے کہ ایسے آدمی کو مزید مہلت دے۔ وہ لوگوں کی خواہشوں کے مطابق اپنے قوانین تبدیل نہیں کیا کرتا۔
Sunday, August 8, 2010
سیکولرازم، لبرلزم اور اسلام
سیکولرازم، لبرلزم اور اسلام
اسلام اور اہلِ اسلام تقریباً 70 برس تک (1917ء میں روس میں بالشویک انقلاب سے 1988ء میں افغانستان میں سوویت یونین کی شکست تک) کمیونزم اور سوشلزم کے خلاف برسرِپیکار رہے۔ان نظریات کے ساتھ اہلِ اسلام نے اپنی جنگ، ذہن کی دُنیا سے نکل کر ذرائع ابلاغ، معیشت، معاشرت، سیاست یہاں تک کہ جنگی میدانوں میں بھی لڑی۔اس جنگ میں کمیونزم اور سوشلزم کو شکست اس لیے ہوئی کہ ان کا غیر فطری اور انسان کے جسمانی اور روحانی مفادات کے خلاف ہونا اہلِ اسلام نے بہت پُر زور دلائل کے ساتھ دُنیا کے تمام اہلِ علم و دانش اور عوام الناس پر ثابت کیا تھا (امریکی اور یورپی ممالک کی مخالفت سیاسی اور معاشی مفادات کے تحت تھی ۔چونکہ ان ممالک میں برسرِ اقتدار طبقات خود بھی لادین اور سرمایہ پرست ہیں، لہٰذا کمیونزم اور سوشلزم کا لادین ہونا ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔مذکورہ دونوں نظریات اپنی نوع کے اعتبار سے اصل نظریات نہیں ہیں بلکہ لبرلزم اور سیکولرزم کے محض فروع ہیں۔
کمیونزم اور سوشلزم کا خالق کارل مارکس: ’’ایک غیر مذہبی شخص تھا جس کا باپ ہنرچ خاندانی طور پر ایک یہودی، ایک جرمن شہری اور پیشے کے اعتبار سے وکیل تھا اورفکری طور پر یورپ میں برپا (خدا بے زاری پر مبنی) تحریکِ احیاۓ علوم کے سرخیل فلسفیوں والٹئیراور کانٹ سے متاثر تھا۔کارل مارکس کے باپ نے یہودی ربیوں کے سلسلۂ نسب سے منسلک ہونے کے باوجود غالباً اپنی پیشہ ورانہ ضرورت کے تحت ایوینجلیکل عیسائیت میں بپتسمہ لیا اور چھے برس کی عمر میں کارل مارکس کو بھی بپتسمہ دے دیا مگر اپنی عملی زندگی میں وہ ایک سیکولر، یعنی لادین شخص تھا۔ کارل مارکس کے کمیونزم کی شکل میں طبقاتی کش مکش کا علَم بردار ہونے کا پس منظر( یورپ میں ظالمانہ جاگیرداری نظام کی تباہ کاریوں کے ساتھ ساتھ۔مضمون نگار) شاید یہ تھا کہ اس کی قوم یہود کے ساتھ یورپ کے تنگ نظر عیسائی مذہبی لوگوں نے ازمنۂ وسطیٰ کے دوران بہت برا سلوک کیا تھا۔عیسائی اہلِ مذہب کے امتیازی سلوک نے اسے نفسِ مذہب ہی سے بے زار کردیا اور وہ بہت جلد مشہور خدا فراموش جرمن فلسفی فریڈرک ہیگل کا خوشہ چین بن گیا‘‘۔ (انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا)
اسلام چونکہ ایک دین (بمعنی مکمّل نظامِ زندگی) ہونے اور انسانوں کے تمام دُنیاوی اُمور میں خدا کی حاکمیت کا قائل اور علَم بردار ہے ،اور لبرلزم اور سیکولرزم کی تو بنا ہی خدا اور حیات بعد الموت سے انکار پر رکھی گئی ہے، اس لیے اسلام کے اصل دُشمن لبرلزم اور سیکولرزم ہیں ۔ مغربی ممالک چونکہ رسمی طور پر عیسائی اور خدا کے قائل ہیں، اس لیے ان ممالک میں حکومت ، معاشرت اور معیشت کی سطح پر لبرلزم اور سیکولرزم کے غلبے کو اہلِ اسلام نے عام طور پر کمیونزم اور سوشلزم کی طرح کا فوری خطرہ نہیں سمجھا۔ مغربی ممالک کا سیکولرزم ، کمیونزم اور سوشلزم کے زوال کے بعد اب خم ٹھونک کر اسلام کے مدمقابل آ گیا ہے۔مغرب کاسیکولر دانش ور طبقہ اور وہاں کے ذرائع ابلاغ حکومتی قوت کی پشت پناہی کے ساتھ دینِ اسلام کے خلاف فکری لڑائی میں مشغول ہیں اور وہاں کی حکومتیں پوری فوجی قوت کے ساتھ اہلِ اسلام پر حملہ آور ہیں۔
اس جنگ میں مسلمان ممالک کے سیکولر حکمران بیش ترسیاست دان اپنے مفادات کی خاطر مغربی طاقتوں کے ہمنوا بلکہ آلۂ کاربنے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کی اکثریت لبرلزم اور سیکولرزم کو نہ سمجھنے کے باعث اس لڑائی کو ایک گومگو کی حالت میں دیکھ رہی ہے۔ لبرلزم اور سیکولرزم کے وہ علَم بردار جو مسلمان ممالک کے شہری ہیں عوام الناس کو ایک دھوکے میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ خدا، رسول، قرآن اور اسلام کا نام لیتے ہیں مگر عملی زندگی میں اسلامی تعلیمات کے نفاذ سے بدکتے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک آدمی بیک وقت مسلمان اور سیکولر یا لبرل ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ سیاسی ، ادبی، صحافتی اور ثقافتی حلقوں میں اثر و نفوذ رکھتے ہیں اور ذرائع ابلاغ اور حکومتی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے نہایت آہستگی اور خاموشی کے ساتھ معاشرے کے تمام شعبوں سے خدا اور اسلام کو بے دخل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ سیکولرزم کی ساخت کے عین مطابق یہ سیکولر حکمران یا دانش ور مسلمانوں کے عقائد ،مراسمِ عبودیت اور رسوم و رواج کی نہ صرف یہ کہ مخالفت نہیں کرتے بلکہ خود بھی ان کو اختیار کر کے عوام کو اپنے متعلق پکّے مسلمان ہونے کا تأثّر دیتے ہیں اور مسلمان عوام اس سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔آئیے دیکھیں کہ سیکولر اور لبرل ہونے کے دعوے دار مغربی دا نش وروں کے نزدیک سیکولرزم اور لبرلزم کا مفہوم کیا ہے کیونکہ ان اصطلاحات کا وہی مفہوم معتبر ہوسکتا ہے جو ان اصطلاحات کے خالق اور قائل بیان کریں۔
لبرلزم
لفظ ’لبرل‘، قدیم روم کی لاطینی زبان کے لفظ ’لائیبر‘ ، (liber ) اور پھر ’لائبرالس‘ (liberalis) سے ماخوذ ہے ، جس کا مطلب ہے ’’آزاد، جو غلام نہ ہو‘‘۔آٹھویں صدی عیسوی تک اس لفظ کا معنی ایک آزاد آدمی ہی تھا۔بعد میں یہ لفظ ایک ایسے شخص کے لیے بولا جانے لگا جو فکری طور پر آزاد، تعلیم یافتہ اور کشادہ ذہن کا مالک ہو۔اٹھارھویں صدی عیسوی اور اس کے بعد اس کے معنوں میں خدا یا کسی اور مافوق الفطرت ہستی یا مافوق الفطرت ذرائع سے حاصل ہونے والی تعلیمات سے آزادی بھی شامل کر لی گئی، یعنی اب لبرل سے مراد ایسا شخص لیا جانے لگا جو خدا اور پیغمبروں کی تعلیمات اور مذہبی اقدار کی پابندی سے خود کو آزاد سمجھتا ہو، اور لبرلزم سے مُراد اسی آزاد روش پر مبنی وہ فلسفہ اور نظامِ اخلاق و سیاست ہوا جس پر کوئی گروہ یا معاشرہ عمل کرے۔
یہ تبدیلی اٹلی سے چودھویں صدی عیسوی میں شروع ہونے والی تحریکِ احیاے علوم (Renaissance یعنی re-birth)کے اثرات یورپ میں پھیلنے سے آئی۔برطانوی فلسفی جان لاک (1620ء ۔ 1704ء) پہلا شخص ہے جس نے لبرلزم کو باقاعدہ ایک فلسفہ اور طرزِ فکر کی شکل دی۔یہ شخص عیسائیت کے مروّجہ عقیدے کو نہیں مانتا تھا کیونکہ وہ کہتا تھا کہ بنی نوعِ انسان کو آدم کے اس گناہ کی سزا ایک منصف خدا کیوں کر دے سکتا ہے جو انھوں نے کیا ہی نہیں۔عیسائیت کے ایسے عقائد سے اس کی آزادی اس کی ساری فکر پر غالب آگئی اور خدا اور مذہب پیچھے رہ گئے۔ انقلابِ فرانس کے فکری رہنما والٹئیر (1694ء ۔ 1778ء) اور روسو (1712ء ۔ 1778ء) اگرچہ رسمی طور پر عیسائی تھے مگر فکری طور پر جان لاک سے متاثر تھے۔ انھی لوگوں کی فکر کی روشنی میں انقلابِ فرانس کے بعدفرانس کے قوانین میں مذہبی اقدار سے آزادی کے اختیار کو قانونی تحفّظ دیا گیا اور اسے ریاستی اُمور کی صورت گری کے لیے بنیاد بنا دیا گیا۔امریکا کے اعلانِ آزادی (American Declaration of Independence) میں بھی شخصی آزادی کی ضمانت جان لاک کی فکر سے متاثر ہو کر دی گئی ہے۔ (انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا، وکی پیڈیا اور اوکسفرڈ ڈکشنری)
سیکولرزم
یہ لفظ قدیم لاطینی لفظ ’سیکولارس‘ (saecularis) سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے ’وقت کے اندر محدود‘۔ عیسائی عقیدے کے مطابق خدا کی ذات وقت کی قید اور حدود سے آزاد اور ما ورا ہے۔تحریک احیاے علوم کے دوران یورپ میں جب عیسائیت کی تعلیمات سے بے زاری پیدا ہوئی اور خدا کے انسانی زندگی میں دخل(جو کہ اصل میں عیسائی پادریوں اور مذہبی رہنماؤں کی خدا کی طرف سے انسانی زندگی میں مداخلت کی غیر ضروری ، غیر منطقی، من مانی اور متشدّدانہ توجیہ تھی ورنہ اگر عیسائیت کی تعلیمات وہی ہوتیں، جو عیسیٰ نے دی تھیں تو خدا کے خلاف بغاوت پیدا نہ ہوتی ) کے خلاف بغاوت پیدا ہوئی تو کہا جانے لگا کہ چونکہ خدا وقت کی حدود سے ماورا ہے اور انسان وقت کی حدود سے مقیّد ہے لہٰذا انسانی زندگی کو سیکولر، یعنی خدا سے جدا (محدود) ہونا چاہیے۔ ’’اس لفظ کو باقاعدہ اصطلاح کی شکل میں 1846ء میں متعارف کروانے والا پہلا شخص برطانوی مصنّف جارج جیکب ہولیوک (1817ء ۔ 1906ء) تھا۔ اس شخص نے ایک بار ایک لیکچر کے دوران کسی سوال کا جواب دیتے ہوئے عیسائی مذہب اور اس سے متعلق تعلیمات کا توہین آمیز انداز میں مذاق اڑایا جس کی پاداش میں اسے چھے ماہ کی سزا بھگتنا پڑی ۔جیل سے رہا ہونے کے بعد اس نے مذہب سے متعلق اظہارِ خیال کے لیے اپنا انداز تبدیل کر لیا اور جارحانہ انداز کے بجاے نسبتاً نرم لفظ ’سیکولرزم‘ کا پرچار شروع کر دیا‘‘۔(انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا اور وکی پیڈیا)
اس اصطلاح کے عام ہوجانے کے بعد پہلے برطانیہ اور پھر تمام یورپ اور دُنیا بھر میں سیکولرزم کے معنی یہ ہوئے کہ ’’انسانی زندگی کے دنیا سے متعلق اُمور کا تعلق خدا یا مذہب سے نہیں ہوتا‘‘اور مزید یہ کہ ’’حکومتی معاملات کا خدا اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔اس اصطلاح کے یہی معنی اب دنیا بھر میں انگریزی زبان کی ہر لغت اور انسائیکلوپیڈیا میں پائے جاتے ہیں اور اسی پر سیکولر کہلانے والے تمام لوگوں کا اتفاق ہے۔’لبرلزم‘ کے مقابلے میں ’سیکولرزم‘ نسبتاً نرم اصطلاح ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق "یورپ کے ازمنۂ وسطیٰ میں مذہبی لوگوں میں یہ رجحان جڑ پکڑ گیا تھا کہ وہ انسانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق دُنیاوی اُمورکو نظر انداز کرتے تھے اور لوگوں کو خدا سے تعلق جوڑنے کی اور ترکِ دُنیا کی تعلیم دیتے تھے۔اس رجحان کے خلاف رَدعمل پیدا ہوا اور یورپ کی تحریکِ احیاے علوم کے دوران میں سیکولرزم نمایاں ہوا اور لوگوں نے تمدّنی ترقی میں زیادہ دل چسپی لینی شروع کی۔ اوکسفرڈ ڈکشنری کے مطابق اول یہ کہ’’سیکولرزم سے مُراد یہ عقیدہ ہے کہ مذہب اور مذہبی خیالات و تصوّرات کو ارادتاً دُنیاوی اُمور سے حذف کر دیا جائے۔اس کی یورپی فلسفیانہ توجیح یہ ہے کہ یہ ایک ایسا نظامِ عقائد ہے جس میں اخلاقی نظام کی بنیاد کلّی طور پر بنی نوعِ انسان کی دُنیا میں فلاح و بہبود اور خدا اور حیات بعد الموت پر ایمان سے انکار (یعنی ان کے عقائد سے اخراج) پر رکھی گئی ہے‘‘۔دوم یہ کہ ’’اس بارے میں ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ تعلیم خصوصاً وہ تعلیم جو عوامی سرمایے سے دی جا رہی ہو ، مذہبی عقائد اور مذہبی تعلیم کو آگے نہ بڑھائے‘‘۔ ویبسٹر ڈکشنری کے مطابق سیکولرزم کے معنی ہیں: دُنیاوی اُمور سے مذہب اور مذہبی تصوّرات کا اخراج یا بے دخلی۔
سیکولرزم اور لبرلزم کا پس منظر
مندرجہ بالا دو اصطلاحات کو مکمل طور پر جاننے کے لیے ضروری ہے کہ اُس ماحول اور اُن حالات کا جائزہ لیا جائے جن کے باعث یہ اصطلاحات تشکیل پائیں۔ حضرت عیسٰی کی پیدایش کے وقت مغربی اور مشرقی یورپ پربُت پرست (مشرک) رومن بادشاہوں کی حکمرانی تھی۔ حضرت عیسٰی آسمان کی طرف اُٹھائے جانے سے قبل دنیا میں 30 یا 33 برس رہے۔وہ بنیادی طور پر بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے رسول تھے تاکہ ان کو تورات کی گمشدہ تعلیمات سے از سرِنو آشنا کریں۔ان کی اصل تعلیمات اِس وقت تقریباً ناپید ہیں۔موجودہ عیسائیت اور اس کے عقائدسینٹ پال کی دین ہیں۔ سینٹ پال یاپولوس کا اصل نام ساؤل تھا جو 10 عیسوی میں پیدا ہوا اور تقریباً 67ء میں فوت ہوا۔یہ شخص بنیادی طور پر کٹر یہودی تھا۔یہ کبھی حضرت عیسٰی سے نہیں ملا اور ان کی زندگی میں ان کا اور ان کی تعلیمات کا سخت مخالف تھا اور ان کو یہودیت کے لیے سخت مضر سمجھتا تھا۔عیسیٰ کے دنیا سے اٹھا لیے جانے کے بعد یہ شخص عیسائی ہو گیا۔یہ وہ شخص ہے جس نے لوگوں کے درمیان (اپنے خوابوں اور مکاشفات کے ذریعے) اس عقیدے کو عام کیا کہ’’ یسوع مسیح خدا کے ہاں اس کے نائب کی حیثیت سے موجود ہیں اور قیامت کے روز لوگوں کے درمیان فیصلے وہی کریں گے، اور یہ کہ اب نجات اس شخص کو ملے گی جو یسوع مسیح کی خوشنودی حاصل کرے گا۔ اس کے لیے اب موسوی شریعت کی عملاً پابندی ضروری نہیں بلکہ محض یسوع مسیح کے خدا کے بیٹے اور چہیتے ہونے کا عقیدہ ہی نجات کے لیے کافی ہو گا‘‘۔یہی وہ شخص ہے جس نے پہلی بار یہ تعلیم بنی اسرائیل کے علاوہ دوسری اقوام کو دینے کی بھی نصیحت کی۔ بنیادی طور پر یہ وہ شخص ہے جسے جدید اصطلاح کی زبان میں ہم سیکولر کہہ سکتے ہیں۔عیسائی مبلغّین کی پہلی کانفرنس50ء میں منعقد ہوئی(جس میں سینٹ پال نے بھی شرکت کی) جس میں تورات کے کئی احکامات کی پابندی سے غیر اسرائیلیوں کو مستثنیٰ کردیا گیا، البتہ انھیں زنا،بت پرستی اور خون آمیز گوشت کھانے سے منع کیا گیا۔ اس وقت تک حضرت عیسیٰ کے خدا ہونے کا عقیدہ پیدا نہیں ہوا تھا۔
عیسائیت کے عقائد کی تعلیم اور اشاعت رومن دور میں ممنوع تھی اور مبلغین پر بہت تشدد کیا جاتا تھا۔ تشدّد کا یہ سلسلہ اس وقت رکا جب رومن شہنشاہ کانسٹنٹائن نے تقریباً 312ء میں عیسائیت قبول کر لی۔لیکن یہ محض عقیدے کی قبولیت تھی ورنہ کاروبارِ مملکت پرانے رومن طریقے ہی پر چلتا رہا اور اس معاملے میں کسی عیسائی عالم کا کوئی اعتراض ریکارڈ پر موجود نہیں ہے۔عیسائیت کے سرکاری مذہب بن جانے کے باوجود مملکت کے سیکولر ہونے کی یہ پہلی مثال تھی۔ اس حکومتی سیکولر زم کی وجہ یہ تھی کہ سینٹ پال کی تعلیم کے مطابق عیسائی عقیدہ اختیار کرنے کے بعد دنیاوی معاملات سے خدا کا تعلق ختم ہو کر رہ گیا تھا۔ 325ء میں نیقیہ کے مقام (موجودہ ترکی میں ازنک) پر تقریباً 300 عیسائی بشپ اکٹھے ہوئے جنھوں نے بحث مباحثے کے بعد اس عقیدے کا اعلان کیا کہ حضرت عیسٰی خدا کے بیٹے اور اس کی ذات کا حصہ ہیں (اس طرح حضرت عیسٰی کے خدا ہونے کا عقیدہ پیدا کیا گیا)۔
تقریباً 476ء میں جرمن گاتھ حکمرانوں کے ہاتھوں مغربی یورپ میں رومن سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ گاتھ چونکہ قبائلی طرزِ زندگی کے عادی تھے اس لیے انھوں نے کوئی مرکزی حکومت قائم نہیں کی جس کے نتیجے میں مغربی یورپ میں ہر طرف طوائف الملوکی پھیل گئی۔ہر جگہ چھوٹی چھوٹی بادشاہتوں اور جاگیرداریوں نے جنم لیا اور باہم جنگ و جِدال شروع ہو گئی۔یہ سلسلہ تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا۔ اس عرصے کو یورپ کا تاریک دور یا ازمنۂ وسطیٰ کہا جاتا ہے ۔ اسی دور میں عیسائیت میں پوپ کے منصب کا آغاز ہوا اور اسے مذہبی معاملات میں مکمل دسترس حاصل ہوگئی ، اس کا کہا خدا کا کہا سمجھا جانے لگا۔یہی دور تھا جب مصر کے صحرا میں رہنے والے کچھ عیسائی مبلغّین نے رہبانیت اختیار کی۔ 500ء میں سینٹ بینیڈکٹ، روم میں لوگوں کی اخلاقی بے راہ روی سے اس قدر تنگ آ یا کہ اس نے اپنی تعلیم کو خیر باد کہا اور ایک غار میں رہایش اختیار کی تاکہ اپنے نفس کو پاک رکھ سکے۔اس مقصد کے لیے اس نے اور لوگوں کو بھی دعوت دی۔جب ایک اچھی خاصی تعداد شاگردوں کی میسّر آگئی تو 529ء میں اس نے باقاعدہ ایک راہب خانے کی بنیاد رکھی اور راہبوں کے لیے ضابطے تحریر کیے جو آج بھی راہب خانوں میں نافذ العمل ہیں۔ان ضوابط میں راہبوں کے لیے شادی کی ممانعت، مہمانوں سے آزادانہ ملنے پر پابندی، مخصوص لباس پہننے کی پابندی،سونے جاگنے، سفر کرنے اور ملنے ملانے، کھانے پینے کے آداب اور طریقے شامل تھے۔وقت گزرنے کے ساتھ رہبانیت اختیار کرنے والوں نے پاکیِ نفس کے لیے غلو اور اس سے بڑھ کر انسانی جسم و جان پر بے جا پابندیاں اور تشدّد شروع کیا جو کہ انسانی فطرت کے خلاف تھا۔اسی کی تعلیم یہ لوگ عوام کو دیا کرتے تھے۔
رفتہ رفتہ یہ راہب لوگوں اور خدا کے درمیان واسطہ بن گئے اور مذہبی معاملات میں انھیں ایک ناقابلِ چیلنج اختیار حاصل ہو گیا۔ایک طرف ان راہبوں کے دُنیاوی اُمور سے الگ ہو جانے اور خود کو راہب خانوں تک محدود کرنے کے باعث حکومتوں کے لیے سیکولر ہونے کو ایک طرح کا کھلا میدان اور جواز فراہم ہوا، تو دوسری طرف راہبوں ، بشپوں اور پوپ کی اس مطلق العنانی نے اختیار کے غلط استعمال کو جنم دیا اور شہنشاہ کانسٹنٹائن کے عہد میں منعقدہ کونسل آف نیقیہ میں طے کردہ عیسائی عقیدے سے اختلاف کرنے والوں کے خلاف سخت متشدّدانہ رویّہ اختیار کیا گیا۔ عیسائی دنیا میں سیکڑوں برس تک اس صورتِ حال کے جاری رہنے سے انسانی فطرت میں اس کے خلاف بغاوت پیدا ہوئی۔پوپ چونکہ اٹلی کے شہر روم میں موجود تھا ، اس لیے تحریک احیاے علوم کا آغاز بھی(چودھویں صدی عیسوی میں) روم ہی سے ہوا۔اس تحریک کے اثرات سے لوگوں نے راہبوں اور پادریوں کی سوچ و فکر سے آزاد ہو کر سوچنا شروع کر دیا۔اس زمانے کے فلسفیوں اور دانش وروں نے دلائل کے ذریعے عیسائیت کے مذہبی عقائد کا غیر عقلی اور غیر فطری و غیر منطقی ہونا لوگوں کے سامنے ثابت کرنا شروع کیا۔ سولھویں صدی عیسوی میں بائبل میں دی گئی کائنات اور زندگی سے متعلق بعض معلومات کے سائنسی طور پر غلط ثابت ہونے سے مذہبی عقیدے کی لوگوں پر گرفت بالکل کمزور پڑ گئی۔ یہ بغاوت عیسائیت کے ایسے قوانین اور ضوابط کے خلاف نہیں تھی جو حکومتی معاملات، طرزِ معاشرت، معیشت، وغیرہ سے متعلق ہوتے کہ ایسے قوانین تو عیسائیت میں تھے ہی نہیں بلکہ عیسائیت تو محض ایک عقیدے کا نام تھی جسے نیقیہ کی کونسل نے حضرت عیسٰی کی تعلیم اور توریت کے احکامات کو نظر انداز کر کے سینٹ پال کے خوابوں اور روحانی مکاشفات کے نتیجے میں اختیار کیا تھااور انسان کی نجات کے لیے لازمی قرار دیا تھا۔یہ عقیدہ چونکہ یونانی دیومالا اور یونانی فلسفے کے زیرِ اثر پروان چڑھا تھا، اس لیے جدید سائنسی انکشافات و اکتشافات کی ذرا سی ٹھوکر بھی نہ سہہ سکا۔
انسانیت پر اثرات
یورپ کے عوام چونکہ راہبوں کے غیر فطری مذہبی رجحانات سے تنگ آ چکے تھے اور سارا یورپ عیسائی علما کے صدیوں تک جاری رہنے والے فقہی اور مذہبی جھگڑوں اور لڑائیوں کے نتائج کو بھی بھگت چکا تھا، اس لیے مذہبی عقیدے سے بغاوت یورپ کے اجتماعی ضمیر میں جلد جذب ہوگئی۔ Renaissance ، یعنی تحریک احیاے علوم کا زمانۂ عروج سترھویں تا انیسویں صدی عیسوی ہے۔ اس دور میں مذہب بے زار فلسفیوں، دانش وروں اور فلسفی سائنس دانوں نے بڑے بڑے تعلیمی ادارے اور یونی ورسٹیاں قائم کیں جن کے ذریعے اپنے خیالات کو عام کیا۔اسی دور میں یورپ نے سائنس اور ٹکنالوجی میں ترقی کی، جب کہ باقی دنیا خصوصاً اسلامی دنیا اپنے حکمرانوں اور مقتدر طبقات کی آسان کوشی اور علما کی غفلت کے سبب علمی اور سائنسی طور پر پس ماندہ ہوچکی تھی۔یورپ میں مذہب بے زاری خدا کے انکا ر اور انسان کو بندر کی اولادسمجھنے تک جا پہنچی۔اب یورپ میں زندگی کی معراج یہ ٹھیری کہ: انسان اپنی دنیا کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ساری جدوجہد کرے۔ تمام انسان بھی عام حیوانوں کی طرح حیوان ہی ہیں، لہٰذا اس دنیا میں بقا محض طاقت ور کو نصیب ہوگی۔ (چارلس ڈارون اور ہربرٹ سپنسر اس فکر کے علَم بردار تھے)۔
اس فلسفے کے عام ہو جانے اور سائنس اور ٹکنالوجی کا ہتھیا ر ہاتھ آجانے کے بعد یورپی اقوام کمزوراقوام پر ٹوٹ پڑیں۔ مفتوحہ ممالک پر اپنے قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے یورپی اقوام نے وہاں اپنی جدید سیکولر اور لبرل فکر کی ترویج کے لیے کالج اور یونی ورسٹیاں تعمیر کیں۔ مفتوحہ اقوام کے تعلیمی ادارے،اُن کی زبانوں میں تعلیم اور عدالتوں کا نظام موقوف کیا اور معاشرت اور معیشت میں اپنی تہذیب اور اپنے تمدّن کو رائج کیا جسے مفتوح اور مرعوب و شکست خوردہ لوگوں نے قبول کیا۔ فاتح اقوام نے رزق کے ذرائع اپنے قائم کردہ جدید سیکولر تعلیمی اداروں کی اسناد کے ساتھ منسلک کر دیے۔ مفتوحہ اقوام کے نوجوان یورپ میں بھی تعلیم حاصل کرنے لگے(طرفہ تماشہ یہ ہے کہ یورپی اقوام نے اپنے مفتوحہ ممالک میں سائنس اور ٹکنالوجی کی تعلیم کا اہتمام نہیں کیا بلکہ ان تمام ممالک کو آزادی حاصل ہونے کے بعد خود اس کے لیے جدوجہد کرنی پڑی)۔ اس طرح یورپ کی خدا اورمذہب سے بغاوت پر مبنی فکر ،ادب، عمرانیات ،فلسفہ، آرٹ اور انگریزی اور فرانسیسی زبانوں کی تعلیم کے ذریعے تمام دنیا میں پھیل گئی۔ البتہ لوگوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد اب تک دینِ اسلام سے وابستہ ہے اور یورپ کی اس فکر کے خلاف ہے۔ مسلمانوں کے ممالک میں اس مذہبی اور غیر مذہبی کی تقسیم نے ہرطرف انتشار اور فساد پیدا کردیا ہے۔
افراد، طبقات اور اقوام باہم دست و گریباں ہیں۔ سیکولر نظامِ تعلیم کے نتیجے میں خدا، رسول اور احتساب بعد الموت پر اعتقاد کے کمزور پڑنے سے مادہ پرستی، لذت کوشی، حرص ،ظلم، عریانی و فحاشی، کاروباری ذہنیت، دھوکا دہی، قتل و غارت گری اور بد امنی ہر طرف پھیل چکی ہے۔
اسلام کا نظامِ حیات
عیسائیت کے برعکس اسلام محض عقیدے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ تو مذہب کے بجاے ایک دین بمعنی مکمّل نظامِ زندگی ہے جس کے اجزا قرآن و سُنّت میں پھیلے ہوئے ہیں۔یہ نظام لگ بھگ بارہ سو برس تک دُنیا کے ایک بڑے حصّے پر غالب ،حاکم اور مقتدر رہا۔ بادشاہ یا حکمران اگرچہ مطلق العنان اور سرکش بھی رہے مگر مسلمان معاشروں میں عدالتیں اسی نظام کے مطابق فیصلے کرتی رہیں، بازار میں(غیر سودی) تجارت اس کے قوانین کے مطابق ہوتی تھی، تعلیمی درس گاہوں میں اسی کی تعلیم دی جاتی تھی، معاشرت کا پورا نظام اسی کی ہدایات کے مطابق تشکیل شدہ تھا اور حکمران اِن اُمور کو اسلام کا جزو لاینفک سمجھتے تھے۔ دینِ اسلام کی اصل تعلیمات گُم ہوئی ہیں نہ مسلمان علما نے کبھی پوپ کی طرح کسی فرد کو دینی معاملات میں(خدا اور رسول کے بجاے) کُلّی اختیارات کا حامل بنایا یا سمجھا، اور نہ مسلم علما نے ترکِ دنیا کے لیے ہی کبھی ایسا پُرتشدد رویّہ اختیار کیا جس سے دینِ اسلام اور علماے اسلام کے خلاف کوئی ہمہ گیر بغاوت پیدا ہوتی۔سائنس اور ٹکنالوجی سے متعلق علوم میں کوئی ایسی بات نہیں جو قرآن کے خلاف ہو۔عقلِ سلیم (جس کے یہ سیکولر حضرات بہت قائل ہیں) کا تقاضا ہے کہ جو شخص خدا کو کائنات کی اجتماعی ہیئت کا آقا مانتا ہو(ظاہر ہے مسلمان کہلانے کے لیے کلمۂ شہادت پڑھنے والا ایک سیکولر شخص اتنا تو تسلیم کرتا ہی ہے) اسے اسی خدا کے احکام کو انسانی زندگی کی اجتماعی ہیئت میں بھی قابلِ اتّباع ماننا چاہیے کیونکہ انسان خود بھی تو اس کائنات کی اجتماعی ہیئت کا حصہ ہے۔یہ کوئی معقول بات نہیں کہ ایک شخص اسلام سے تو نہ پوچھے کہ اس کے پاس اجتماعی زندگی کے مسائل کا حل ہے یا نہیں لیکن مغرب کی تقلید میں یا مرعوبیت کے سبب، اسلام پسندی کی ’تہمت‘ سے بچنے کے لیے یا دین پسند ہونے کی صورت میں ’انتہا پسند‘ کہلائے جانے کے خوف سے پورے کے پورے دین کو اجتماعی زندگی سے خارج کر دے۔
اسلامی ممالک میں خدا، حیات بعد الموت اور دینِ اسلام کی دُنیاوی اُمور سے متعلق تعلیمات کے بارے میں آج جوبے اطمینانی پائی جاتی ہے، اس کا سرچشمہ یہی یورپ کی خدا اور اس کے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے برگشتہ فکر ہے جس کی ذرا سخت قسم لبرلزم اور کچھ نرم قسم سیکولرزم کہلاتی ہے۔ پاکستان میں سیکولرزم کا نام لیے بغیر بھی بہت سے لوگ ذرائع ابلاغ کو اس کی وکالت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔یہ سیکولر لوگ 11 اگست 1947ء کو کی جانے والی بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی محض ایک تقریر کو بنیاد بنا کر اور اس کی غلط اور سیاق و سباق سے ہٹی ہوئی من مانی تشریح کر کے ان کو ایک آزاد منش(liberal)،غیر دینی(secular) اور محض ایک قومی رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں، تاکہ عوام الناس کو زندگی کے ہر گوشے (خصوصاً حکومت، سیاست، معاشرت اور معیشت ) سے متعلق موجود اسلامی تعلیمات (جنھیں مِن و عَن قبول کرنے میں ان کا اپنا نفس مانع ہے)، اور حق پرست علما کو اسلام سے برگشتہ کر سکیں اور پاکستان کو ایک جدید اسلامی فلاحی مملکت بننے سے روک سکیں۔
دراصل لبرلزم اور سیکولرزم بھی کوئی بنیادی عقائد نہیں ہیں بلکہ محض عیسائی راہبوں کے مذہبی تشدّد کے خلاف رَدعمل کا نام ہیں جو دُنیا کے اباحیت پسند نفس پرستوں کو بہت بھاتے ہیں ۔ وہ جدید تعلیم یافتہ مخلص مسلمان جو کچھ مذہبی افراد کی تنگ نظری یا کوتاہ نگاہی کے شاکی ہیں انھیں سیکولرزم یا لبرلزم کا شکار ہو کرخدا کو اجتماعی زندگی سے خارج کرنے کے بجاے اسلام کی تعلیمات کا ان کے اصل ماخذ قرآن و حدیث سے مطالعہ کرکے، اور اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ جدید علوم سے بہرہ ور علماے حق کے ساتھ بیٹھ کراجتماعی زندگی کے ان مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے جن کا حل ان کے خیال میں کچھ تنگ نظر اور کوتاہ فکر مذہبی لوگوں کے بس کی بات نہیں۔ آج کے دگرگوں حالات میں بقا ، نجات، آزادی، عزت اور سربلندی کا ایک ہی راستہ ہے کہ اہلِ اسلام خود قرآن و سُنّت کے شفاف چشمے کی طرف رجوع کریں اور لبرلزم اور سیکولرزم کے خلاف اسلام کے دفاع کی جنگ ہر محاذ پر لڑیں، اور پھر دُنیا کے عام انسانوں کو اپنی قولی اور عملی شہادت کے ذریعے بتائیں کہ اسلام واقعی خدا کا دیا ہوا حیات بخش نظامِ زندگی ہے جس کے مقابلے میں لبرلزم اور سیکولرزم دُنیا کے انسانوں کو محبت، سکون، امن ، خوش حالی، قناعت، ہمدردی، اطمینانِ قلب، خدا سے تعلق اور روحانی لگاؤ عطا کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔
میڈیا کا کردار اورامت مسلمہ
میڈیا کا کردار اور امت مسلمہ
گذشتہ دو عشروں سے پاکستان سمیت عالم اسلام پرالیکٹرانک میڈیاکی یلغارہے۔ نجی سطح پر ٹی وی چینلوں کے سیلاب کے ذریعے معاشرتی واخلاقی اقدارکوبدل کررکھ دیا ہے۔ اگرچہ اخبارات ورسائل میں بھی روزافزوں ترقی کاعمل جاری رہا لیکن نجی ٹی وی چینلوں نے اسلامی ثقافت پر گہری ضرب لگانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
مغرب کا ہدف کیا ہے؟اس کا اندازہ ایک فرانسیسی رسالے لے موندڈپلومیٹ میں شائع شدہ مضمون سے ہوسکتا ہے جس میںیہ واضح طورپر لکھا گیا ہے کہ ’’اسلام کے خلاف جنگ صرف فوجی میدان میں نہیں ہوگی بلکہ ثقافتی اورتہذیبی میدان میں بھی معرکہ آرائی ہوگی‘‘۔ امریکی فلمی مرکز ہالی ووڈ اسلام مخالف سازشوں کا مرکز گردانا جاتاہے۔ ایک صدی سے زائد مدت سے یہاں فلموں کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت و کدورت، بغض وکینہ پوری دنیا میں پھیلایا جارہا ہے۔ بیسویں صدی کی آخری دودہائیوں میں ہالی ووڈنے مسلم دشمنی پرمبنی فلمیں ’ڈیلٹافورس‘ ، ’انتقام‘، ’آسمان کی چوری‘ بنائیں، جب کہ ورلڈٹریڈ سنٹرکا تجرباتی ڈراما اسٹیج کرنے کے لیے ۱۹۹۲ء میں’حقیقی جھوٹ‘ اور ’حصار‘ وغیرہ نامی فلمیں تیار کی گئیں۔ ان فلموں میں اسلام اور مسلمانوں کا تشخص بری طرح مجروح کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو امن دشمن اوردہشت گردبناکرپیش کیا گیاہے۔ نائن الیون کے بعدامریکا اور مغربی ممالک نے اسلحہ ٹکنالوجی کے ساتھ ساتھ جدید میڈیا ٹکنالوجی کا سہارا لے کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا مہم شروع کر رکھی ہے۔ امریکا عالم اسلام کے وسائل، معدنیات اورتیل پرقبضے کاخواہاں ہے۔ افغانستان اورعراق پرقبضہ اور نائن الیون کا خودساختہ ڈراما اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ عالم اسلام پرامریکی جارحیت اور مغربی میڈیا کا بے بنیاد اورمن گھڑت پروپیگنڈا چہاراطراف سے امتِ مسلمہ کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔
مغرب نے دنیابھر کی معیشت اور میڈیا پر اپنا قبضہ جما رکھا ہے۔ مصرسمیت کئی مسلم ممالک کے ٹی وی چینلز اور اخبارات مغرب کے زیراثرہیں۔ اسلام کے خلاف پروپیگنڈا مہم مغربی میڈیا کا مستقل موضوع ہے۔ کبھی مغربی ممالک کے اخبارات میں توہین آمیز خاکے شائع کیے جاتے ہیں اور کبھی ہالینڈ میں قرآن اور اسلامی شعائرکے خلاف فلمیں بنائی جاتی ہیں۔ مغربی میڈیا وقتاً فوقتاً مسلمانوں کو’دہشت گرد‘، ’جہادی‘ اور’بنیادپرست‘ ثابت کرنے کے لیے اپنی مہم چلائے رکھتا ہے۔
مسلم حکومتوں اوراداروں کا فرض ہے کہ وہ مغربی میڈیاکی یلغارکا مقابلہ کرنے کے لیے جامع پالیسی تشکیل دیں۔ عالم اسلام کے حکمرانوں کی بے حسی کایہ عالم ہے کہ اس اہم مسئلے سے پہلوتہی برتی جارہی ہے۔ آج میڈیاکے محاذ پر سرجوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ مسلم تنظیموں اور اسلامی تحریکوں کو میڈیا کے میدان میں سرگرم عمل ہوناچاہیے اور اپنے اپنے دائرے میں ایسے افراد تیار کرنے چاہییں جو میڈیاٹکنالوجی کو سمجھ سکیں اورتعمیری جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم ممالک اپنی روایات، ثقافت اورنظریاتی اساس کے پیش نظر اپنی میڈیا پالیسی ترتیب دیں۔ حالات حاضرہ کے پروگرام ’ٹاک شو‘قومی ونظریاتی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے چاہییں۔ پرنٹ والیکٹرانک میڈیاکومغرب کی اندھی تقلیداورنقالی نہیں کرنی چاہیے۔ ٹی وی ڈراموں میں اسلامی تاریخ وثقافت کوپروان چڑھانا چاہیے۔ اگر احساس زندہ ہو تو آج بھی مثبت اور تعمیری تفریح کومسلم ممالک میں فروغ دیاجاسکتاہے۔ تعمیری، اصلاحی، تاریخی اورمعلوماتی پروگرام تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ فلم کے میدان میں ایران نے خاصی ترقی کی ہے اور عالمی ایوارڈ بھی حاصل کیے ہیں۔ ایسی فلمیں جو اصلاح وتطہیر کا فریضہ سرانجام دیں اورجن کے ذریعے اسلامی معاشرے میں تعلیم وتربیت کاعمل بڑھ سکے ان کو مسلم ممالک میں رواج دینے کی ضرورت ہے۔
مغرب کی یہ حکمت عملی رہی ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کے جذبات کوجانچنے کے لیے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں ایشوزاٹھاتارہتاہے۔ اسلامی شعائرکی توہین کی جاتی ہے، تو مسلم دنیا میں احتجاجی مظاہروں کے ذریعے ہی ردِعمل سامنے آتا ہے، لیکن میڈیا کے ذریعے اس کا جواب نہیں دیا جاتا۔ مسلم دنیا کو الیکٹرانک میڈیا اور انٹرنیٹ پراسلامی تشخص کوعام کرنے اور مغربی پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دینے کے لیے اپنے دائرہ کاراورکاوشوں کو مؤثر اور منظم اندازمیں بڑھانے کی ضرورت ہے۔
مسلم ممالک اورمغرب میں موجودمسلم تنظیمیں بڑے محدود دائرے میں میڈیاکاکام کررہی ہیں۔ مغرب نے جس سطح پر میڈیاسے کام لیا ہے، وہ مغربی ایجنڈا دنیا پرمسلط کرنے کے لیے خاصا کارگرثابت ہواہے۔ مسلم تنظیموں، اداروں اور تحریکوں کے لیے بے حد ضروری ہے کہ میڈیا کے لیے مناسب بجٹ مختص کریں۔ الیکٹرانک میڈیا بالخصوص ٹی وی چینلوں کو ہدف بناکر کام کیا جائے۔ ’پروڈکشن ہاؤس‘کے ذریعے اینکرپرسنز اور پروڈیوسرز کی تربیت کابندوبست کیا جائے۔ آیندہ ۱۰سال کا منظرنامہ سامنے رکھا جائے تو مسلم دنیا میں الیکٹرانک میڈیامیں ایسے افراد بڑی تعداد میں دستیاب ہوسکیں گے جو قومی ودینی سوچ اور نظریاتی شناخت کے حامل ہوں گے۔
مسلم ممالک میں تنظیموں اوراداروں کو’میڈیاتھنک ٹینک‘ کا قیام عمل میں لانا چاہیے، ایسے ’میڈیا تھنک ٹینک‘ جو مغرب سے مکالمہ کرسکیں۔ امریکا اوریورپ کے ’میڈیا تھنک ٹینک‘ اسلام مخالف پروپیگنڈے میں پیش پیش ہیں۔ میڈیاتھنک ٹینک کے ذریعے مغربی پروپیگنڈے کا توڑ کیا جاسکتاہے اور حالات وواقعات کی اصل تصویردنیاکے سامنے پیش کی جاسکتی ہے۔
مسلم دنیا کے ذرائع ابلاغ کے منتظمین اپنی سطح پر محدود دائرے میں کام کررہے ہیں۔ مکمل ادراک (وژن) نہ ہونے اور مؤثرحکمتِ عملی سے تہی دامن ہونے کی وجہ سے اس کے اثرات صحیح طور پر مرتب نہیں ہو رہے۔ مسلم ممالک کی تنظیموں، اداروں اورتحریکوں کے میڈیاسے متعلق افراد کے نیٹ ورک کومنظم اورمربوط کرنے کی اشد ضرورت ہے جس کے لیے انٹرنیشنل میڈیاکانفرنس کا انعقاد کیا جائے۔ اگرعالم اسلام کی ’میڈیاکانفرنس‘ کا انعقاد ایک تسلسل سے ہو تو نہ صرف میڈیا کے میدان میں پیش رفت کا جائزہ لیا جاسکتا ہے بلکہ درپیش چیلنجوں کے لیے مؤثر حکمت عملی بھی تشکیل دی جاسکے گی۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیامیں الیکٹرانک میڈیااورانٹرنیٹ کی ٹکنالوجی پھیلنے سے مطالعے کا رجحان کم ہو گیا ہے۔ اب لوگ ٹی وی چینلوں اور انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات اورتفریح حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کے لیے ناگزیر ہے کہ جدید ٹکنالوجی کے ذریعے دنیا بھر میں اسلام کے حقیقی پیغام کوعام کریں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جدید خطوط پر پروگراموں کی تیاری کے لیے ’پروڈکشن ہاؤس‘ بنانے چاہییں۔ اس کی ایک کامیاب مثال Peace TVکی ہے، جہاں سے نشر ہونے والے پروگرامات پاکستان سمیت دنیا بھر میں بڑے پیمانے پرپھیل چکے ہیں۔ مختلف ممالک میں ایسے ٹی وی چینلوں کوقائم کرنے کی طرف توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے جومعاشرے کی تعلیم وتربیت اورشعوروآگہی کوپروان چڑھاسکیں۔
اسلامی دنیامیں میڈیا سے وابسطہ افرادکی فنی تربیت اور میڈیا کو عصرحاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایسے معیاری ’میڈیاانسٹی ٹیوٹ‘قائم کرنے بھی ضرورت ہے جو ایسے افراد تیار کرسکیں جو اسلامی تہذیب وثقافت کو پروان چڑھانے میں اپنا کردارادا کرسکیں۔
امریکا اور یورپ میں الیکٹرانک میڈیاکے میدان میں جدید ٹکنالوجی کااستعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ اب توامریکا اوریورپ میں شہروں کی سطح پرحکومت اوراین جی اوزکی سرپرستی میں پبلک براڈکاسٹنگ سنٹربنائے جارہے ہیں۔ ان ٹریننگ سنٹروں میں میڈیاسے دل چسپی رکھنے والے افراد کو اینکرپرسنز، پروڈیوسرز، سکرپٹ رائٹرزاورکیمرہ و ایڈیٹنگ کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان سمیت مسلم ممالک میں بھی ایسے پبلک براڈکاسٹنگ سنٹرزکاقیام ضروری ہے۔ ان نشری تربیتی مراکز سے بہترین اینکر پرسنز، پروڈیوسر اور دیگر باصلاحیت افرادتیارکیے جاسکتے ہیں جو مسلم دنیا میں گہرے شعور و ادراک کے فروغ کے لیے کام کرسکیں۔
مغربی میڈیا کی جدید ٹکنالوجی کے جواب میں اگرچہ عالم اسلام میں بھرپور پیش رفت نہیں ہوسکی، تاہم سعودی عرب، کویت، قطر اور ترکی نے میڈیاکے میدان میں پیش رفت کی ہے۔ انٹرنیٹ اورٹی وی چینلوں کے ذریعے اسلام کی دعوت احسن اندازمیں پیش کی جارہی ہے۔ تاہم مسلم ممالک میں جدید میڈیا ٹکنالوجی سے ابھی تک خاطرخواہ استفادہ نہیں کیاجا سکا۔ الیکٹرانک میڈیا کے میدان میں پیش رفت کے لیے مؤثراورجامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ اسلامی تحریکیں، میڈیا ادارے اور مسلم تنظیمیں ہرسطح پراس کے لیے بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مسلم دنیا اگر مجوزہ سفارشات اور خطوط پر منظم اور احسن انداز میں اقدامات اُٹھائے تو اُمت مسلمہ میڈیا کے محاذ پر درپیش چیلنج کا بھرپور اور مؤثر جواب دے سکے گی۔
Subscribe to:
Posts (Atom)